تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 430 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 430

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم پس منظر کے بغیر عددی غلبہ آئے تو اس کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔پس عددی غلبہ آنے کے دن بھی بہت دور نہیں۔لیکن وہ اس طرح آئے گا اور اس کو اس طرح آنا چاہئے کہ آپ کے اندر ایسا بے پناہ حسن پیدا ہو جائے ، اسلام اتنازیادہ گہرائی کے ساتھ آپ کے اندر راسخ ہو جائے ، آپ کی شکلیں ان پاکیزہ لوگوں سے اتنی زیادہ ملنے لگ جائیں، جن کو ہمیشہ خدا کی نظر نے بھی تحسین سے دیکھا ہے۔وہ جو بے پناہ کشش آپ کے اندر پیدا ہوگی، اگر وہ عددی غلبہ کے باعث بنتی ہے تو وہی غلبہ ہے، جو قدر کے لائق ہے۔اور اگر پاکستان میں یہ عددی غلبہ بھی نصیب ہو اور خدا کرے کل کی بجائے آج نصیب ہو ، اگر چہ اس معاملہ میں ابھی ہمیں بہت سے قدم آگے بڑھانے ہیں، بہت لمبے فاصلے ابھی طے کرنے والے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ یہ ایک نسل کا کام نہ ہو، اس سے اگلی نسل بھی انہی راہوں پر ماری جائے ، انہی راہوں پر فدا ہو، تب جا کر خدا کی طرف سے آخری فتح کا دن نصیب ہو۔لیکن یہ فتح جو ہو رہی ہے، اس کی قدر کریں۔یہی قدر کے لائق فتح ہے۔اس کی غلامی میں جو فتح نصیب ہوگی ، وہ ہمیں قبول ہے۔کیونکہ وہی خدا کو قبول ہوا کرتی ہے۔اس فتح سے چنگل چھڑا کر ، اس سے آزاد ہو کر اگر عددی فتح ملتی ہے تو اس کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔اس لئے باہر کی جماعتیں بھی اس مضمون پر غور کریں، خصوصاً مغرب میں بسنے والی۔جیسا کہ میں نے متوجہ کیا ہے، شدت کے ساتھ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی اگلی نسلوں کو سنبھالیں اور جو گندے حملے باہر سے ہوتے ہیں اور آپ کو برے لگتے ہیں، وہی میدان آپ کے جیتنے کے میدان ہیں۔وہاں آپ حسن خلق سے یا برائی کو حسن سے بدل کر اپنے اندر بھی پاکیزہ تبدیلی پیدا کریں، اپنی اولاد میں خصوصیت کے ساتھ تبدیلی پیدا کریں۔اور اس ضمن میں، میں سمجھتا ہوں کہ ساری دنیا کی اور خصوصاً اس دنیا کی جماعتیں ، جو مغربی دنیا کہلاتی ہے یا وہ علاقے بھی جو مشرق کے ہیں اور دور دراز کے ہیں اور مرکز کی آنکھ سے ذرا پرے رہتے ہیں، ان سب کی جماعتیں بھی خصوصیت کے ساتھ مجالس عاملہ کے اجلاس بلائیں اور مختلف پہلوؤں سے غور کریں کہ کس طرح اپنے گھروں کے ماحول کو پاکیزہ بنانا ہے۔ہر گھر سے تلاوت کی آواز اٹھنی چاہئے۔بچوں کو ہوش آئے ، اس طرح آنکھیں کھولیں کہ گھروں میں سے تلاوت کی آواز آ رہی ہو، لوگ نمازوں کا اہتمام کر رہے ہوں۔وضو بتانا نہ پڑے بلکہ وہ دیکھ کر سیکھ لیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ جن گھروں میں نمازوں کا اہتمام ہو اور تلاوت کا اہتمام ہو، وہاں بچوں کو کہہ کہہ کر سکھانا نہیں پڑا کرتا بلکہ بعض دفعہ انہیں روکنا پڑتا ہے کہ یہ بے موقع بات ہے، اس وقت اس بات کو چھوڑو۔جن گھروں میں نمازیں ہو رہی ہوتی ہیں بعض دفعہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی چلتے چلتے سڑک پر بھی اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کر دیتے ہیں۔430