تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 429 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 429

تحریک جدید -- ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 1986ء غلبہ ہے۔اس عددی غلبہ کو ہم نے کیا کرنا ہے، جو ایسے وقت میں نصیب ہو کہ جب ہماری اولادیں اصل میدان میں بازی ہار چکی ہوں اور ان کے عدد کی حیثیت خدا کے نزدیک کچھ بھی نہ ہو۔اس لئے عددی غلبہ کا انتظار اس طرح نہ کریں کہ گویا وہی آپ کا یوسف ہے۔آپ کا یوسف تو روحانی غلبہ ہونا چاہئے۔اور اس فتح کو آپ نے پہلے اپنے گھروں میں حاصل کرنا ہے۔اگر گھر میں یہ میدان ہار دیا تو باہر بھی آپ کی بازی ہاری گئی۔جہاں تک آپ کی ذات کا تعلق ہے، آپ فتح کا منہ دیکھ ہی نہیں سکتے پھر۔اس لئے روح کو سمجھیں اور خصوصیت کے ساتھ اس دور سے یہ فائدہ اٹھائیں۔کہتے ہیں، جب لوہا گرم ہوتا ہے، اس وقت نرم ہوتا ہے۔وہی وقت ہوتا ہے، اسے مولڈ کرنے ، اسے مختلف شکلیں دینے کا۔جتنا زیادہ شدت کے ساتھ غیر حملہ کر رہا ہے، اتنا ہی زیادہ جماعت نفسیاتی لحاظ سے اس بات کے لئے تیار ہورہی ہے کہ وہ اپنی تربیت کرے۔اور جو رستے پہلے مشکل نظر آیا کرتے تھے، وہ آسان ہوتے چلے جا رہے ہیں۔عبادتیں جہاں لوگوں کو پہلے بھاری دکھائی دیا کرتی تھیں، اب وہ ان کے لئے ہلکی ہوتی جارہی ہیں اور آسان ہوتی چلی جاتی رہی ہیں۔مسلسل شاید ہی کوئی ایسا دن ہو کہ جس میں یہ اطلاع نہ ملی ہو کہ ہمارا خاندان پہلے بے نماز تھا، اب نمازی ہو گیا ہے۔اور وجہ ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ غیر نے جود کھ پہنچائے ہیں، ان کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس اصلاح کی توفیق بخشی ہے۔نمازوں کی کیفیتیں بھی مسلسل بدل رہی ہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، سینکڑوں خط مجھے روزانہ آتے ہیں۔شاید ہی کوئی دن ہو، مجھے یاد نہیں کہ کوئی ایک بھی دن ایسا ہو ، جس میں اس قسم کی خوش کن خبریں نہ ملتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اصلاح اعمال کی توفیق عطا فرمائی، نمازوں میں غفلت تھی، وہ دور کرنے کی توفیق عطا فرمائی، نمازوں کا معیار بڑھانے کی توفیق عطا فرمائی، وہ روحانی لذت اور سرور بخشا، جس سے ہم پہلے نا آشنا تھے۔درحقیقت اس کی وجہ یہی ہے کہ اس وقت دل نرم ہیں اور نیکیوں کی شکل میں ڈھلنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ایسے وقت میں آپ کو پور استفادہ کر کے ان حالات سے ادفع بالتی ھی احسن کا ایسا قوی جواب دینا چاہئے کہ دشمن کو بھی محسوس ہو جائے کہ اب یہ اتنا آگے نکل چکے ہیں کہ ان کا تعاقب ہی نہیں ہوسکتا۔اسلامی قدروں کو انہوں نے ایسا اپنا لیا ہے اور اخلاق میں اس قدر نمایاں ہو گئے ہیں کہ لاکھ ہم جھوٹ بولیں، اب دنیا مانے گی نہیں کہ ان کا اسلام سے تعلق نہیں ہے۔چنانچہ یہ ہے وہ فتح، جو حقیقی فتح ہے۔اگر اس کے عقب میں عددی غلبہ غلاموں کی طرح آئے تو وہ یقینا اس لائق ہے کہ اسے قبول کیا جائے اور اسے تحسین کی نظر سے دیکھا جائے۔لیکن اگر اس وو 429