تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 414
خطبہ جمعہ فرمود و 10 اکتوبر 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم دورہ خدا کے فضل سے نہایت مصروف تھا۔اور اس خیال سے کہ بار بار موقع نہیں مل سکتا، جماعتوں نے حتی المقدور میرے وقت کا بہترین استعمال کرنے کی کوشش کی۔اندرونی رابطے کے لحاظ سے بھی اور بیرونی رابطے کے لحاظ سے بھی۔اور دونوں لحاظ سے کینیڈا کے سفر کا میرے دل پر بہت ہی اچھا اثر پڑا ہے۔جماعتی طور پر تو میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کینیڈا نے گزشتہ چند سالوں میں خدا کے فضل سے تربیتی لحاظ سے غیر معمولی ترقی کی ہے۔1978ء میں جب میں انفرادی طور پر وہاں گیا تو کینیڈا کی جماعتوں کا اچھا اثر لے کر واپس نہیں آیا تھا۔اندرونی اختلافات بھی تھے اور مغربی معاشرے سے ایک طبقہ متاثر بھی ہو چکا تھا۔اور خصوصاً ہماری خواتین پر اس کے بداثرات ظاہر ہورہے تھے۔اس کے نتیجہ میں خطرہ تھا کہ آئندہ نسلیں خدانخواستہ ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔علاوہ ازیں بھی نظم وضبط کی وہ کیفیت نہیں تھی ، جو ہر جگہ جماعت میں ہونی چاہئے۔اور جب یہ حالات ہوں تو لازماً ترقی پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔اور جماعتوں میں جا کر جو غیر معمولی خوشی کا احساس پیدا ہونا چاہئے ، اس کا وہاں فقدان تھا۔اب جب میں وہاں گیا ہوں تو خدا کے فضل سے ہر پہلو سے میری طبیعت میں خوشی کا احساس پیدا ہوا اور اللہ تعالی کے شکر کی طرف طبیعت مائل ہوئی۔کیونکہ مشرق سے مغرب تک جو سفر اختیار کیا، تقریباً ساڑھے تین ہزار میل سے زائد کا سفر تھا، صرف ملک کے اندرہی۔اور وقت کے لحاظ سے تین گھنٹہ کا فرق پڑا گیا تھا، مشرقی کنارے سے مغربی کنارے تک۔اس تمام عرصہ میں ہر جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیداری کی ایک نمایاں روح دیکھی ہے۔اور بہت احساس پایا جاتا ہے کہ ہم جس حد تک بھی ممکن ہو، اپنی اولاد کی تربیت کریں، اکٹھے رہیں، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر محبت کے ساتھ دین کے کام کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔اور یہ احساس جو عموماً پایا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص رحمت کی ہوا چلی ہے۔ورنہ بہت بڑا کام تھا ، سارے ملک کی ہر جماعت کی تربیت کرنا۔جہاں تک مرکزی مربی کا تعلق ہے، ملک اتنا وسیع ہے کہ اس کا ہر جگہ پہنچنا ویسے ہی ممکن نہیں۔شا کے طور پر بھی وہ جاسکتے ہیں۔اس سے مجھے اندازہ ہوا ہے کہ دراصل پاکستان میں جو حالات گزر ہے ہیں، تکلیف دہ، یہ محض ان کا پھل ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ہوائیں جو چل رہی ہیں، اس کا تعلق ان تکلیفوں سے ہے اور ان دعاؤں سے ہے، جو ان تکلیفوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں اور ساری دنیا میں خدا کی رحمت غیر معمولی طور پر خوشخبریاں لے کے آرہی ہے۔اور اس کے جو چھینٹے ہیں ، وہ مردہ دلوں میں ایک 414