تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 398 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 398

اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 08 اگست 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک کریں تو وہ پیغام نامکمل ہوگا، آدھا ہو گا۔ہے تو مکمل لیکن انسان زندہ انسانوں کے ساتھ رابطے میں آکر ایک پہلو سے وہ آدھا نظر آتا ہے۔وہ پیغام ، جو مکمل ہو اور اسے مکمل طور پر عمل کے سانچے میں ڈھالنے والے وجود نہ ہوں، اس پہلو سے وہ آدھا رہ جاتا ہے کہ پروگرام تو بہت اچھا ہے لیکن واقعہ انسانوں کی زندگی پر اثر انداز ہو بھی سکتا ہے کہ نہیں ؟ واقعہ انسان اس قابل ہیں بھی کہ نہیں کہ اس کے متحمل ہو سکیں ؟ اس پروگرام کو اپنے اعمال میں جاری کریں، اپنی سیرت میں ڈھالیں، یہ ممکن ہے کہ نہیں ؟ اس کے لئے ایک عملی نمونہ کی ضرورت ہے۔اور قرآن کریم نے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں وہ نمونہ ہمارے سامنے پیش کر دیا۔سیرت کے جلسوں پر اس سال غیر معمولی زور دینا ہے اور قرآن کریم کی اشاعت کے ساتھ یہ مضمون ایسا ایک ازلی ابدی رابطہ رکھتا ہے کہ پوری طرح بات مکمل ہو جائے گی۔" قرآن کریم کی اشاعت کلام طیب کی اشاعت ہے۔اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مضمون کو شہرت دینا اور دنیا میں پھیلانا، اس عمل صالح ہی کی ایک تصویر کھینچتا ہے۔جس سے کلام طیب میں جان پڑ جاتی ہے۔ایک فرض حقیقت کے روپ میں آجاتا ہے، ایک تصور حقیقت کے روپ میں آجاتا ہے۔یہ وہ کام ہے، جو ہم نے اس سال غیر معمولی طور پر کرنا ہے۔اور اس سلسلہ میں ہمارے دوسرے بہت سے مسائل خود بخود حل ہوتے چلے جائیں گے۔جب ہم سیرت پر زور دیں گے تو جہاں جہاں احمدی سیرت کے مضمون تیار کریں گے یا سیرت کے مضمون سنیں گے، خود بخود طبعی طور پر ان کے نفس اپنے حالات سے اس سیرت کا موازنہ بھی کرتے رہیں گے۔اس لئے تربیت کا اس سے بہتر اور کوئی پروگرام جماعت کے لئے ممکن نہیں ہے۔اور اس کے علاوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار محبت کے جوش اٹھنے کے نتیجہ میں جب سیرت کا مضمون سنتے ہیں تو محبت تو ہر جگہ ہوتی ہے، اس میں ایک نیا ہیجان پیدا ہو جاتا ہے۔بعض اوقات تو ایسی ایسی بڑی لہریں اٹھتی ہیں کہ جو سارے وجود کو ڈھانپ لیتی ہیں۔اس وقت جو درود آپ کے منہ سے نکلیں گے، اس کے نتیجہ میں اللہ اور اس کے فرشتے جو درود بھیجیں گے، ساری جماعت پر ان کی غیر معمولی برکتیں ہمیں نصیب ہوں گی۔اس لئے قرآن کریم کی اشاعت کے ساتھ میں نے غور کے بعد اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کے مطابق یہ فیصلہ کیا ہے کہ سیرت کے مضمون کو باندھ کر ساری دنیا میں اس کو پھیلایا جائے“۔وو۔پس میں آپ کو اس نیک پروگرام کی طرف بلاتے ہوئے دوبارہ اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ آپ اسلام کا زندگی بخش پیغام لے کر دنیا میں نکلنے والے ہیں، آپ اسلام کی مئے عرفان بانٹنے والے ہیں، آپ مردہ دلوں کو ایک حیات نو بخشنے والے ہیں، آپ مردہ زمینوں کو دوبارہ زندہ کرنے والے ہیں۔398