تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 397 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 397

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد هفتم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 اگست 1986ء اول: اشاعت قرآن کریم۔کیونکہ اشاعت قرآن کریم میں عالم اسلام، عالم عیسائیت سے بہت ہی پیچھے رہ گیا ہے۔اور جب بھی نظر پڑتی ہے، اس موازنہ پر تو شرم سے دل کٹنے لگتا ہے۔کروڑہا کروڑ مسلمان موجود ہو اور خدا تعالیٰ نے دولت کی ریل پیل کر دی ہو، بعض ممالک میں اور قرآن کریم کی اشاعت سے غافل ہوں تو قرآن کریم کی اشاعت کا کام بھی ہم نے سنبھالنا ہے۔مساجد کو ایسے ملکوں میں بنانا، جہاں پہلے اس سے خدا تعالیٰ کی توحید کے گیت نہیں گائے جاتے رہے، جہاں پہلے اذانیں بلند نہیں ہوئیں۔تو دراصل یہ ان کے منفی کردار کا ایک مثبت جواب ہے، جو خدا تعالیٰ نے ہمیں سکھایا ہے۔قرآن کریم کی اشاعت پر وہ جتنی پابندیاں لگا رہے ہیں، خود نہ کرنے کے باوجود دوسروں کو بھی روک رہے ہیں، اس کا ایک ہی جواب ہے جماعت احمدیہ کے پاس کہ پہلے سے کئی گنا زیادہ مضبوط ارادوں اور مخلصانہ اور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اور تمام تر ایثار اور قربانی کے ساتھ اشاعت قرآن کریم کی طرف توجہ دیں۔اور پچھلے سال جو خدمت کی توفیق ملی ہے، اس سے زیادہ اس سال خدمت کرنے کا عزم لے کر اس سال کو شروع کریں۔اور مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اس سے بڑھ کر خدمت کی توفیق ملے گی۔دوسرا: مساجد کے متعلق بھی ایک ایسا پروگرام ہے، جو جماعت کا ہمیشہ سے جاری ہے۔لیکن اس پروگرام میں ان کے منفی رویہ کو بھی ایک دخل ہے۔انہوں نے مساجد پر حملہ کرنا شروع کیا ہے۔قرآن کے بعد مساجد پر حملہ ہے۔ہر اسلام کی بنیاد پر حملہ ہے۔اس لئے اس کے مقابل پر ہم مساجد کو انشاء اللہ تعالیٰ مزید وسعتیں دیں گے۔گزشتہ سال بھی مساجد کی توسیع اور مساجد کی تعمیر کا سال تھا۔یہ سال بھی انشاء اللہ تعالیٰ اس پہلو سے اس کام کو آگے بڑھانے کا سال ہوگا۔اور مساجد کے ساتھ مشنز ہیں۔بعض خدا کے فضل سے بہت عظیم الشان مشنز خدا تعالیٰ نے پچھلے سال بنانے کی توفیق عطا فرمائی۔امسال بھی خدا تعالیٰ توفیق عطا فرمائے گا تو ہمارا منصوبہ یہ ہے کہ بالکل نئے ممالک میں جہاں پہلے مشن اور مساجد قائم نہیں تھیں ، وہاں انشاء اللہ تعالیٰ مشن اور مساجد کی تعمیر کی کوشش کی جائے گی۔تیسرا: دعوت الی اللہ ہے۔اس میں ابھی تک ہم خواہش کے مطابق داعمیین الی اللہ پیدا نہیں کر سکے۔تو یہ سال اس پہلو سے دعوت الی اللہ پر زور دینے کا سال ہونا چاہئے۔اور چوتھا: جو نیا پروگرام ہے۔یہ تین پروگرام پہلے سے چل رہے ہیں، چوتھا جو نیا پروگرام ہے، وہ ہے تو بہت ہی پرانا لیکن وہ عام طریق پر جاری ہے۔غیر معمولی شدت اور قوت کے ساتھ اسے ہم نے گزشتہ سال میں اپنا یا نہیں۔وہ ہے سیرت کے جلسوں کو فروغ دینا۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہی سے دنیا نے نجات پانی ہے۔اگر صرف قرآن کریم کا پیغام ہم دیں اور ساتھ سیرت کا نمونہ پیش نہ 397