تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 355 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 355

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد مصف اقتباس از خطبه عید الفطر فرمودہ 09 جون 1986ء بغیر راہ مولا میں دکھ اٹھانے والوں کی ساری ضرورتیں ہمیشہ خدا کے فضل کے ساتھ پوری کرتی رہے۔اس لئے وہ ضرورتیں پہلے بھی پوری ہو رہی تھیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی پوری ہوتی رہیں گی۔اس بارہ میں آپ لوگ مطمئن رہیں۔لیکن ان کو لذتیں اس سے زیادہ نصیب ہو ہی نہیں سکتیں۔جن کی لذت یابی کی خاطر آپ نے قربانی کی ہے۔ان کو آپ کی قربانی کی لذت پہنچنی چاہئے اور اس سے بہتر رنگ میں ان کو روحانی لذت پہنچانے کا اور کوئی طریق ممکن ہی نہیں ہے۔یہ تو جس دن یہ سنیں گے ، اس دن بھی ان کی ایک عید ہو گی۔اور یہ عید ایسی ہے، جو دائی ان کے ساتھ رہے گی، نسلاً بعد نسل۔ان تراجم سے عظیم الشان قو میں، بڑی بڑی قومیں دنیا کی فائدے اٹھاتی رہیں گی۔اور جن کے دل میں بھی ان تراجم کے ذریعہ اسلام داخل ہوگا، اللہ تعالیٰ کی تو حید داخل ہوگی، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن سے وہ آشنا ہوں گے اور اللہ اور اس کے رسول کے عشق میں دن رات محمد اور نعت کے گیت گانے لگیں گے، ان سب کی دعاؤں کا فیض ہمیشہ ہمیش کے لئے ان لوگوں کو پہنچتا رہے گا۔اس لئے وقتی عارضی جسمانی تکلیفوں کو دور کرنے کے خیال سے آپ نے جو پیش کیا ، اگر اسے ابدی طور پر ہمیشہ ہمیش کے لئے نہ ختم ہونے والی نعماء کی صورت میں ان کے حضور پیش کیا جائے تو اس سے بہتر اور کیا طریق ممکن ہے؟ اور جہاں تک ان کی بنیادی ضرورتوں کا تعلق ہے، جیسا کہ میں نے کہا ہے، جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے خود کفیل ہے۔اور مجھے تحریک اس لئے پیدا ہوئی تھی کہ مجھے خیال آیا کہ جس طرح میرا دل بے چین ہے کہ میں بھی ذاتی طور پر کچھ ان کے حضور پیش کرنے کی کوشش کروں ، ساری جماعت کے دل میں ایسے خیالات اٹھتے ہیں اور بعض لوگوں نے اظہار بھی کیا ہے تو جماعت کو ایک سعادت بخشنے کے لئے ، ان کے دل کی ایک حسرت و تمنا پوری کرنے کی خاطر یہ تحریک کی گئی تھی۔یہ تو نہیں تھا کہ اگر یہ تحریک نہ کی جاتی تو نعوذ باللہ راہ مولا میں دکھ اٹھانے والے تن تنہا رہ جاتے اور کوئی ان کا پوچھنے والا نہ ہوتا۔ہرگز ایسی کوئی بات نہیں تھی۔پس آج کی عید کے موقع پر ایک یہ بھی تحفہ میں آپ کو پیش کرتا ہوں کہ آپ کی ان قربانیوں کا بہترین مصرف خدا نے مجھے سمجھا دیا۔اور یہ تحفہ اس شان کے ساتھ ان راہ مولا میں دکھ اٹھانے والوں کو پیش کیا جائے گا کہ تاریخ مڑ کر دیکھے گی اور دعائیں دے گی ، ان کو بھی ، جنہوں نے یہ تحفہ پیش کیا اور ان کو بھی، جنہوں نے تحفہ قبول کیا اور پھر خدا کی راہ میں پیش کر دیا اور ہمیشہ کے لئے دنیا کی سعادتوں اور عزتوں اور شرف کا سامان مہیا کر گئے۔پس انشاء اللہ تعالیٰ اس سو سال کے اختتام سے پہلے، جو عنقریب اختتام تک پہنچنے والے ہیں، یعنی جماعت کے سو سال کم سے کم ایک سوزبانوں میں آج کے راہ موٹی میں دکھ اٹھانے والے احمدیوں کی طرف سے یہ قرآن کریم کے تراجم تحفہ کے طور پیش کر دیئے جائیں گے“۔355