تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 350

اقتباس از خطبه عید الفطر فرمودہ 09 جون 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم اس وقت میرے دل کی عجیب کیفیت ہے۔میں بے قرار ہوں کہ دونوں ہاتھوں سے آپ کا ہاتھ تھا موں اور اسے بوسے دیتا چلا جاؤں۔حضرت اماں جان ، جن کا نام نصرت جہاں پیش نظر رہنا چاہئے ، اسی میں دراصل بڑی خوش خبری ہے۔ویسے آپ کی ذات بھی بڑی مبارک تھی، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔لیکن ذات کے ساتھ یہ نام مل کر مکمل خوش خبری بنتی ہے۔آپ ایک شعر پڑھتی ہیں، مجھے دیکھ کر۔وہ شعر تو مجھے یاد نہیں رہا اور میں اسے خواب کے دوران بھی شرمندگی اور انکسار کی وجہ سے یادرکھنا نہیں چاہتا تھا۔یعنی مجھے دہراتے ہوئے بھی شرم محسوس ہورہی تھی۔اس شعر کا مضمون کچھ اس قسم کا تھا کہ جیسے شمع کوخود اپنے پروانے کی تلاش تھی اور شمع اپنے پروانے کے پاس آگئی ہے۔نا قابل بیان لذت تھی، اس شعر میں۔ایسا روحانی سرور تھا کہ کوئی دوسرا انسان، جو اس تجربہ سے نہ گزرا ہو، اس کو اس کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔اس شعر کو حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے دو تین مرتبہ پڑھا۔اور وہی پاکیزہ فرشتوں کی سی مسکراہٹ آپ کے چہرہ پر تھی۔یعنی مسکراہٹ فرشتوں کی کہنا تو ایک عجیب محاورہ ہے ، مگر فرشتہ کے ساتھ کا جو تصور ہے انسان کا ، وہ تصور مسکراہٹ میں بھی شامل ہو جایا کرتا ہے۔پس اس کے سوا میرے پاس اور کوئی اظہار بیان کا طریق نہیں ہے۔ایک فرشتوں کی سی مسکراہٹ میں اسے قرار دے سکتا ہوں۔اس کے ساتھ وہ زیر لب وہ شعر پڑھتی رہیں اور میں نے جواب میں کوئی شعر پڑھا اور یہ بتانے کی خاطر کہ میں اس لائق کہاں۔اس شعر میں ایک پنجابی لفظ استعمال کیا جی آیاں نوں"۔حضرت اماں جان مسکرائیں اور مجھے فورا خیال آیا کہ اس لئے مسکرا رہی ہیں کہ تم اپنے جوش میں یہ بھی بھول گئے ہو کہ اردو میں پنجابی ملا رہے ہو۔لیکن خواب میں اس رؤیا کے وقت اس سے بہتر محاورہ مجھے نظر نہیں آیا کہ آپ آئی ہیں تو جی آیاں نوں۔اہل پنجاب اس محاورہ کی لذت سے آشنا ہیں۔بے اختیار جب بہت ہی پیار آئے کسی آنے والے پر اور انسان اپنے آپ کو اس لائق نہ سمجھے کہ آنے والا اسے اعزاز بخش رہا ہے، اس کے گھر چلا آیا ہے تو بے اختیار پنجاب میں خصوصاً عورتوں کے منہ سے یہ آواز نکلتی ہے، نعرہ بلند ہوتا ہے، جی آیاں نوں، جی آیاں نوں۔جن لوگوں کو تجربہ ہے پنجاب کے گھروں میں اس طرح اچانک جانے کا، جہاں ان کو عزت اور پیار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، ان کو پتہ ہے کہ عجیب گھر میں افراتفری سی پڑتی ہے، دوڑتی ہیں قدم لینے کے لئے لپکتی ہیں عورتیں اور بے اختیار کہتی ہیں کہ جی آیاں نوں۔تو مجھے علم تھا کہ یہ پنجابی محاورہ ہے، مگر مجھے اس وقت رویا میں اس کے سوا اور کوئی محاورہ نظر ہی نہیں آتا تھا اس موقع پر اپنے جذبات کے اظہار کا۔وہ شعر جو بھی تھا، میں نے شعر میں ہی جواب دیا۔لیکن 350