تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 340 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 340

خطبہ جمعہ فرمودہ 104 اپریل 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم برکت ہوگی۔ان دونوں کے ذاتی اموال میں بھی برکت ہوگی اور جماعتی اموال میں بھی برکت ہوگی۔اور و غیر معمولی فضلوں اور رحمتوں کی بارشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوں گی۔خدا کی راہ میں کھلے دل کے ساتھ خرچ کرنے والے کبھی نقصان میں نہیں رہتے۔اور خدا کی راہ میں ہاتھ روک کر اس وجہ سے خرچ کرنے والے کہ سلسلے کے اموال ہیں، ان میں زیادہ سے زیادہ احتیاط کی جائے، وہ بھی کبھی نقصان میں نہیں رہتے۔اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت ان دونوں امور کی طرف متوجہ ہوگی۔۔مجھے خصوصیت کے ساتھ اس لئے یہ تحریک پیدا ہو رہی ہے کہ غیر معمولی طور پر جماعت کے دلوں کو چندے دینے میں فراخی عطا کی گئی ہے۔اس کثرت کے ساتھ پاکیزہ روحانی تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے اور روح سر بسجو د ہو جاتی ہے۔ایک تحریک کے بعد دوسری کر کے دیکھی ، دوسرے کے بعد تیسری، تیسری کے بعد چوتھی۔ابھی پہلی تحریک کا حساب بھی نہیں سمٹا ہوتا کہ دوسری تحریک شروع ہو جاتی ہے اور ہر تحریک پر توقع سے حیرت انگیز طور زیادہ جماعت قربانی کرتی چلی جارہی ہے۔قابل رشک ہے۔لیکن تبھی قابل رشک ہے، اگر اسے قابل رشک رکھا جائے، ہمیشہ کے لئے۔اگر اس کے ساتھ تقویٰ کے معیار کو اور بلند کیا جائے۔اگر اس کے ساتھ ساتھ خرچ کرنے والے بھی استغفار کریں اور خدا کا خوف دلوں پر طاری کریں اور کوشش کریں کہ قربانی کرنے والوں کی محبت اور پیار کا ایک پیسہ بھی ضائع نہ ہو۔ایسے لوگوں کی کمی بھی نہیں ہے۔جب میں یہ بات کہتا ہوں تو کمزوروں کو پیش نظر رکھ کر کہہ رہا ہوں۔ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ نعوذ باللہ من ذالک جماعت میں ایسے متقی موجود نہیں۔ایسے بھی ہیں، جن کے متعلق مجھے فکر کرنی پڑتی ہے کہ یہ جماعت کی خاطر اتنی کنجوسیاں کرتے ہیں اپنے نفس کے اوپر کہ اپنے حق بھی مارتے ہیں اور ان کے متعلق کوئی اور بتادے تو بتادے، ان کی زبان نہیں ہوتی اس معاملہ میں۔اس لئے مجھے فکر کر کے ان کی ضرورتوں پر نگاہ رکھنی پڑتی ہے کہ کہیں خدانخواستہ میری غفلت کے نتیجہ میں ان کو تکلیف نہ پہنچے تو امر واقعہ یہ ہے یہ بھی اللہ کی عجیب شان ہے کہ جب انسان اپنے اندر کا نگران سخت کر دیتا ہے تو باہر سے شفیق دل بھی ان کے لئے پیدا کرتا ہے، جو باہر سے ان کا خیال کرتے ہیں۔وہ اپنا درد نہیں کرتے تو خدا اور خدا کے فرشتے ان کا درد کرتے ہیں اور ان کے اولادوں کے اموال میں بھی برکت بخشتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے اور حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کا حوالہ دیا ہے۔اس کے علاوہ اولیاء نے بھی کہا ہے کہ خدا کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والوں اور خدا کی خاطر قربانی۔کرنے والوں کی سات نسلیں تک بھوکی نہیں مرتیں۔340 ( ملفوظات جلد 04 صفحه 444