تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 333
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد من خطبہ جمعہ فرمودہ 04 اپریل 1986ء اتنا واضح ہے، اس کی ذمہ داریاں اتنی زیادہ ہوتی ہیں، اس کی آمد کے مقابل پر کئی دفعہ مقروض ہو جاتا ہے، کئی دفعہ حادثات پیش آجاتے ہیں کہ وہ بے جھجھک ہو کر لکھتا ہے کہ میرے یہ حالات ہیں، اس لئے میں 1/16 دینے کی توفیق نہیں پاتا۔لیکن امیروں کی طرف سے ایسا کبھی کوئی خط نہیں آیا۔کیونکہ اگر وہ لکھیں تو ان کو شرمندگی ہوگی۔اس لئے وہ نظام جماعت کو توڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ایک اور گناہ سرزد کر رہے ہوتے ہیں۔یعنی غریب آدمی تو جانتا ہے کہ میں لکھوں گا تو میرے لئے بلکہ دعا کی طرف توجہ پیدا ہوگی ، میری غربت پر رحم آئے گا۔اور اس لئے اس کی طبیعت میں لکھنے پر طبعی آمادگی پائی جاتی ہے۔لیکن امیر آدمی اپنا راز کھولتا ہے، اپنی خساست کا راز کھولتا ہے، اس لئے رک جاتا ہے۔کبھی کسی امیر نے نہیں لکھا کہ مجھ میں توفیق نہیں ہے ، 1/16 دینے کی، مجھے معاف کر دیا جائے۔حالانکہ میں نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ اگر کوئی لکھے تو میں معاف کر دوں گا۔لیکن وہ لکھ سکتے ہی نہیں ، ان کو توفیق ہی نہیں، اس بات کی۔وہ سمجھتے ہیں، ہمارے دل کا بخل ننگا ہو جائے گا۔اس لئے ایک جرم، ایک دوسرے جرم کرنے پر ان کو مجبور کر رہا ہے۔در اصل اصل نگران تقویٰ ہی ہے، جو دل کا نگران ہے۔باہر سے نگرانی ممکن ہی نہیں ہے۔یعنی حقیقی نگرانی باہر سے نہیں ہو سکتی۔اس لئے میں اپنی جماعت کے امراء سے کہتا ہوں کہ اپنے تقویٰ کے معیار کو بڑھائیں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اموال پیش کرتے وقت اپنے تقویٰ کے نگران کو سامنے رکھا کریں۔یہ نہ دیکھا کریں کہ باہر سے کوئی آنکھ دیکھ رہی ہے یا نہیں۔دوسرا حصہ ہے وہ لوگ جو اموال خرچ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔یعنی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے مختلف کارکن، جو خدا کی راہ میں آنے والے اموال کو خرچ کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ان میں واقف زندگی بھی ہیں اور غیر واقف زندگی بھی ہیں۔پاکستان میں کام کرنے والے بھی ہیں اور باہر کے ملکوں میں بھی۔ایسے ممالک میں بھی ہیں، جو خدا کے فضل سے بہت خوشحال ہیں اور کم سے کم معیار پر بھی اگر وہاں واقعین رہیں ، تب بھی ان کی حالت پاکستان میں بسنے والے واقفین کے مقابل پر اعلیٰ سے اعلیٰ معیار سے بھی اونچی ہے۔اور ایسے ممالک میں بھی ہیں، جہاں اتنی غربت ہے، اتنا معیار گرا ہوا ہے کہ بعض دفعہ ایک ہفتہ پہلے جب ہم ان کے وظائف میں اضافہ کا اعلان کرتے ہیں تو اس کے بعد یہ اطلاع آتی ہے کہ اب اس مال کی قیمت یہاں آدھی رہ گئی ہے۔اور امر واقعہ ایسا ہو چکا ہے کہ چند دن کے اندر اندر جب وظائف میں اضافہ کیا گیا تو وہاں سے اطلاع ملی کہ اب تو یہاں روپے کی قیمت 1/3 رہ گئی ہے۔بہر حال مختلف حالات میں واقفین زندگی ہوں یا غیر واقفین زندگی خدا کی راہ میں اس قربانی کی توفیق بھی پارہے ہیں اور کچھ بے احتیاطیاں بھی کر رہے ہیں۔333