تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 327 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 327

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد مصف اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 21 مارچ1986ء عددی اکثریت کی بجائے اپنے معیار تقویٰ کو بڑھانے کی طرف توجہ کریں وو خطبہ جمعہ فرمودہ 21 مارچ 1986ء ایک رحجان یہ دیکھا گیا ہے کہ بکثرت احمدیوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہورہا ہے کہ ہمیں عددی اکثریت کب نصیب ہوگی اور عددی غلبہ کب میسر آئے گا؟ یہ درست ہے کہ خدا تعالیٰ الہی جماعتوں سے عددی غلبے کے بھی وعدے فرماتا ہے اور عددی کثرت بھی نصیب فرماتا ہے۔لیکن جب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو خدا کے نزدیک عدد کی کوئی بھی قیمت دکھائی نہیں دیتی۔عدد کی بجائے خدا کے نزدیک کیفیت کی قیمت ہے۔اور کیفیت کی قیمت کا یہ حال ہے کہ بعض دفعہ چند کی خاطر اور بعض دفعہ ایک وجود کی خاطر کل عالم کو بھی ہلاک کر دے۔تو خدا تعالیٰ کے ہاں جو قیمتیں مقرر ہیں، اس لحاظ سے کوئی بھی نقصان کا وو سودا نہیں ہوگا۔خدا کی اقدار کے پیمانوں کے لحاظ سے یہ فیصلہ بالکل درست اور مناسب ہوگا“۔پس وہ لوگ، وہ احمدی احباب خصوصاً جن کے دل میں بار بار یہ حسرت پیدا ہو رہی ہے کہ کاش ہمیں عددی اکثریت جلد حاصل ہو جائے ، ان کو میرا یہ پیغام ہے کہ عددی اکثریت کی بجائے اپنے معیار تقویٰ کو بڑھانے کی طرف توجہ کریں۔جہاں تک عددی اکثریت کا تعلق ہے، یہ بھی قرآن کریم میں وعدے موجود ہیں۔لیکن عددی اکثریت کی حیثیت سے نہیں بلکہ صاحب تقویٰ لوگوں کی تعداد میں اضافے کی حیثیت سے۔قرآن کریم میں جہاں غیروں پر غلبہ کا وعدہ فرمایا گیا ہے، وہاں فرمایا ہے:۔لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ تا کہ وہ اسے قالب کرے، یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کرے اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ کا مطلب عددی اکثریت ہے ہی نہیں۔جب کہا جاتا ہے کہ محمد کو دنیا پر غالب کرے تو مراد یہ ہے کہ ہر حسن کو دنیا پر غالب کر دے، ہر خوبی کو دنیا پر غالب کر دے، ہر پاکیزگی کو دنیا پر غالب کر دے، ہر صفت باری تعالیٰ کو دنیا پر غالب کر دے۔پس بظاہر لوگ اس کا یہی معنی لیتے ہیں کہ اسلام کی عددی اکثریت کا وعدہ کیا گیا ہے، ہرگز نہیں۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ کا وعدہ کیا گیا ہے اور وہ غلبہ حسن کے بغیر ممکن نہیں۔69 327