تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 328
اقتباس از خطبه جمعه فرمود ه 21 مارچ 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم پس اگر اس طرح احمدیت نے بڑھنا ہے کہ نور مصطفوی پھیل جائے تو یہ تمنا ، ایک پاکیزہ تمنا ہے، یہ تمنا یقیناً قرآن کریم کی کے مطابق ہے۔لیکن اگر مقابل کے جوش میں، اگر ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی تمنا میں آپ محض عددی اکثریت پر نظریں لگا کر بیٹھ جائیں تو یہ کوئی اچھا سودا نہیں ہوگا۔اس ابتلاء کی صحیح قیمت آپ نے وصول نہیں کی۔اس لئے اپنی توجہ کو قیمتوں اور قدروں کی طرف مرکوز رکھیں اور یہ فیصلہ کریں کہ ہر قربانی کے بدلے خدا سے سب سے زیادہ قیمت وصول کریں گے۔وو تو جہاں تک اس ابتلاء کے دور میں تمناؤں کا تعلق ہے، قرآن کریم آپ کی تمنائیں بھی درست کرتا ہے، آپ کا قبلہ درست فرماتا ہے اور بتاتا ہے، کثرت کی تمنا نہ کرو۔یہ تمنا کرو کہ نیکی غالب آئے اور تقویٰ غالب آئے اور پاکیزگی غالب آئے اور تمام دنیا میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا غلبہ ہو۔۔۔۔پس اس دور میں جو سب سے بڑا مال غنیمت آپ حاصل کر سکتے ہیں، سب سے بڑی فتح جو حاصل کر سکتے ہیں، وہ مال غنیمت، تقویٰ کا مال غنیمت ہے۔اور وہ فتح اپنے دل کی اور اپنے نفس کی فتح ہے۔اور یہی وہ اندرونی فتح ہے، جو بیرونی فتح پر منتج ہوا کرتی ہے۔یعنی یہی وہ اندرونی غلبہ ہے، جو بیرونی 66 غلبوں میں تبدیل ہوا کرتا ہے۔اگر یہ دور آپ کو تقویٰ کا نور عطا کر دے تو یہ وہ پھلجھڑیاں ہیں، جن کے مقابل پر اور کوئی پھلجھڑی نہیں۔آپ کے دل میں اگر نور کے سوتے پھوٹنے لگیں، آپ کے دل میں اگر تقویٰ کی وہ زیاں چلیں، جن سے نور کے رقص آپ کے سینوں میں دکھائی دیں، جن میں چاندنی پھوٹتی ہوئی دکھائی دے، جن میں اللہ کا پیار رقصاں ہو اور خدا کی محبت کے نغموں کی آوازیں پھوٹ رہی ہوں۔ان جلوؤں کی کیوں تمنا نہیں کرتے؟ ان رقص وسرور کے پیچھے کیوں نہیں بھاگتے ؟ ان غلبوں کے نغموں کے لئے آپ کے کان کیوں نہیں ترستے ؟ یہ وہ غلبے ہیں، جوحقیقی غلبے ہیں اور دائمی غلبے ہیں۔جو اس دنیا میں آپ کو پیچھے چھوڑ کر نہیں جائیں گے بلکہ آپ کے ساتھ اس دنیا میں بھی جائیں گے۔آپ کو پیچھے چھوڑ کر نہیں جائیں گے بلکہ آپ کے آگے آگے بھاگیں گئے۔خطبات طاہر جلد 15 صفحہ 225 تا 239) 328