تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 314

ارشادات فرموده دوران مجالس عرفان 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم ہے۔دیکھتی ہیں کہ ان کے خیال میں اس کتاب میں پیش کردہ نہایت ٹھوس دلائل کا جواب کوئی یوگوسلاوین سکالر نہ دے سکے گا۔اور وہاں کے عیسائیوں میں جو کمیونسٹ ملک میں رہنے کی وجہ سے ہر بات کا منطقی جواز ڈھونڈتے ہیں، ایک انقلاب برپا ہو جائے گا۔کیونکہ اس کے خیال میں احمدیت اسلام کا ایک ایسا فرقہ ہے، جو مذہبی امور کی حقانیت عقلی دلائل سے ثابت کرتا ہے۔فرمایا:۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ پولینڈ میں پیش آیا۔میں نے ایک احمدی دوست کو ، جو دوسری جنگ عظیم سے قبل وہاں رہ چکا تھا اور ہر قسم کے پرانے تعلقات منقطع کر چکا تھا، اس امید میں بھجوایا کہ شاید کوئی پرانی واقفیت نکل آئے اور پولینڈ میں تبلیغ کا کوئی ذریعہ بن جائے۔چنانچہ ان کی ملاقات وہاں پر چند تا تاری مسلمانوں سے ہوئی۔ان میں سے ایک تاتاری لیڈر عورت نے اس احمدی دوست کو اپنے خاوند کے ساتھ دوستی کی وجہ سے فوراً پہچان لیا اور اپنے تمام حلقوں میں ان کا تعارف کروایا۔چند نو جوان بہت متاثر ہوئے اور ان کی معرفت تاریخ کے ایک پروفیسر نے خدا کے فضل سے احمدیت قبول کر لی اور اس نے مجھے خط لکھا کہ مجھے احمدیت کا پورا لٹریچر وغیرہ بھیجوایا جائے تا کہ وہیں پر ترجمہ کر کے اس کی اشاعت میں مشغول ہو جاؤں۔ولینن گراڈ کے ایک تاریخ کے پروفیسر کو کہیں سے احمدیت کا لٹریچر میسر آ گیا۔اس کا مطالعہ کرنے کے بعد اس نے لکھا کہ میں حضرت مسیح موعود کے تمام دعوؤں کو سچا مانتا ہوں۔گو اس نے ابھی بیعت نہیں کی لیکن وہاں پر کتابوں کے تراجم کرنے اور ان کی اشاعت کے لئے ہر قسم کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اسی طرح چین میں بھی ایک عورت اسلام اور احمدیت میں دلچسپی لے رہی ہے۔1984ء کے اوائل میں ایک چینی ٹیم کے ساتھ ایک عورت بھی پاکستان آئی اور مجھے اس کے ساتھ تین چار گھنٹے تک مذہبی گفتگو کرنے کا موقع ملا۔اسے خدا تعالیٰ کی ہستی کا قائل کرنے کی کوشش کی گئی۔اس نے واپس جاتے وقت ایک احمدی دوست کو ، جس کی صرف بیٹیاں ہی تھیں اور اس کی بیوی علیل تھی اور بظاہر اس کے ہاں مستقبل قریب میں کوئی بچہ پیدا ہونے کی امید نہ تھی، یہ چیلنج دیا کہ اگر خدا موجود ہے تو اپنے خلیفہ سے کہو کہ وہ دعا کریں کہ تمہاری بیوی کو علالت کے باوجود خدا بیٹا عطا کر دے تو پھر میں یقین کر لوں گی کہ ایسی کوئی ہستی موجود ہے۔جب مجھے اس بات کا علم ہوا تو میں نے بڑے درد کے ساتھ اس کے لئے دعا کی اور مجھے اسی وقت دعا کے قبول ہونے کا احساس ہو گیا۔میں نے اس احمدی کو صبر کے ساتھ انتظار کرنے کے لئے لکھ دیا۔اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے پورے نو ماہ گزرنے کے بعد اس شخص کو بیٹا عطا کر دیا۔جب اس عورت کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی تو وہ حیران رہ گئی اور ایک دم احمد یہ لٹریچر میں دلچسپی لینے لگی۔314