تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 311 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 311

تحریک جدید - ایک الہی تحریک پھر فرمایا:۔ارشادات فرموده دوران مجالس عرفان 1985ء و تبلیغ کے لئے ہمیشہ سچائی اور صاف گوئی سے کام لیں اور سیدھا طریقہ اختیار کریں، کسی کے کام کرنے کی آڑ میں تبلیغ نہ کریں۔یکم نومبر ، لنڈن ( مطبوعہ ہفت روزہ النصر یکم نومبر 1985 ء ) سوال: کیا احمدیت کے ذریعہ اسلام کی عالمگیر فتح کے نتیجہ میں دنیا میں مثالی معاشرہ قائم ہو جائے گا؟ فرمایا:۔کسی بھی مذہب سے یہ توقع رکھنا کہ اس کو اپنا کر سوسائٹی کا ہر فرد خود بخو دروحانیت کی بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گا، درست نہیں۔کسی بھی قوم کی روحانی ترقی کے مستقبل کا پتہ لگانے کے لئے اس کے ماضی پر نظر دوڑانا بہت ضروری ہے۔آنحضرت کے زمانہ میں عرب سوسائٹی روحانی طور پر اپنے عروج پر پہنچ یہ حقیقت ہے کہ آئندہ ہم کتنی بھی کوشش کریں ، سوسائٹی کو روحانیت کے لحاظ سے اس بلند مقام تک نہیں پہنچا سکتے ، جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود موجود تھے اور مدینہ میں نئے آنے والے مسلمانوں کی تربیت خود کرتے تھے اور ان کو خود اسلام سکھاتے تھے۔لیکن اس کے باوجود قرآن کریم کے مطابق مدینہ اور اس کے اردگرد کے عرب قبیلوں میں ایک بڑی تعداد منافقوں کی موجود تھی۔اگر مثالی معاشرہ سے مراد ہر فرد واحد کا اصلاح یافتہ ہونا ہے تو یہ مقصد تو آپ کی زندگی میں بھی پورا نہیں ہوا اور آئندہ بھی پورا نہ ہو سکے گا۔لیکن اگر آپ کی مراد یہ ہے کہ مذہب معاشرہ کے ہر فرد کے لئے روحانی ترقی کے مواقع مہیا کرے گا تا کہ وہ اپنی ہمت اور بساط کے مطابق روحانیت کی انتہائی حدود تک پہنچ سکے تو اس کا جواب ”ہاں“ میں ہے۔اسلام کی فتح اور غلبہ کے بعد ہر انسان کو اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کے مواقع مہیا کیے جائیں گئے"۔( مطبوعہ ہفت روزہ النصر 08 نومبر 1985 ء ) 15 نومبر،لنڈن سوال مختلف مذاہب اور رنگ ونسل کے لوگوں میں قرابت پیدا کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کیا کردار ادا کر رہی ہے؟ فرمایا:۔مختلف مذاہب میں صلح و آتشی کا قیام تب ہی ممکن ہے، جبکہ تمام بنی نوع انسان کی خیر خواہی کو مد نظر رکھا جائے اور ان کے حقوق پورے کئے جائیں۔بظاہر یہ ناممکن نظر آتا ہے کیونکہ دنیا میں رنگ و نسل یہ 311