تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 310
ارشادات فرموده دوران مجالس عرفان 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم کا جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔لیکن بہر حال ان لوگوں میں سے چند استقامت اختیار کر لیتے ہیں اور اس سے اچھے نتائج بھی برآمد ہوتے ہیں۔حضور انور نے جاپان کے ایک احمدی نوجوان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ گوہ بہت معمولی دینی تعلیم رکھتا ہے لیکن اس کے زیر تبلیغ ایک بڑا امریکی افسر اور ایک جاپانی تاجر ہے، جو جماعت کے لٹریچر کا مطالعہ کر رہے ہیں۔اور امریکن افسر کو اس نوجوان نے حضور انور کے سورۃ فاتحہ کے درس کی ویڈیوکیسٹس بھی دیں، جس سے اس کو مزید شوق پیدا ہو گیا۔(الحمد لله ) سوال: خدمت خلق کے ذریعے تبلیغ کرنے کے متعلق حضور کی کیا رائے ہے؟ فرمایا:۔خدمت خلق ضرور کرنی چاہئے کیونکہ یہ انسانیت کا تقاضا ہے کہ اگر انسان کسی کے کام آسکے تو ضرور کام کرے۔لیکن خدمت خلق کو تبلیغ کا بہانہ نہ بنائیں۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ خدمت خلق سے تبلیغ کی راہ ہموار کرتے ہیں لیکن یادرکھیں کہ اس قسم کی کوششیں بے فائدہ ہوتی ہیں۔اگر کوئی دلچسپی کا اظہار بھی کرے تو آپ کو کیا معلوم کہ دلچسپی کا اظہار صرف کام کروانے کے لئے نہیں کیا جارہا۔مذہب کے معاملے میں ہمیشہ صاف اور سیدھا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی فرمایا ہے کہ پنے مقصد کے حصول کے لئے ہمیشہ صاف گوئی اور ایمان داری سے کام لو۔فرمایا کہ وو ” جب میں وقف جدید میں کام کرتا تھا تو احمدی دوست اپنے ساتھ غیر از جماعت دوستوں کو لے کر آتے کہ ان کا فلاں کام بھی کرنا ہے اور انہیں تبلیغ بھی کرنی ہے کیونکہ یہ احمدیت میں دلچسپی لے رہے ہیں۔شروع شروع میں تو میں ان کو تبلیغ کرتارہا لیکن جلد ہی یہ معلوم ہو گیا کہ وہ صرف اپنا کام کروانے کے لئے دلچسپی کا بہانہ کر رہے تھے۔چنانچہ جب مجھے اس حقیقت کا علم ہو گیا کہ میں نے احمدی دوستوں سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ایسے لوگوں کا کام تو کر دو لیکن انہیں جماعت سے کوئی دلچسپی نہیں اور اگر واقعی ہے تو پھر انہیں بعد میں لے کر آنا۔فرمایا:۔1952ء سے 1982 ء تک میں نے وہاں کام کیا لیکن کام کروانے والے غیر از جماعت دوستوں میں سے ایک بھی دوبارہ واپس نہیں آیا۔اس کے برعکس وہ لوگ ، جو احمدیت کے زبردست مخالفین کی صورت میں آئے ، انہیں تبلیغ کی گئی اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ان میں سے بہت سے احمدی ہیں۔310