تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 309
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد هفتم ارشادات فرموده دوران مجالس عرفان 1985ء سوال : وصیت کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟ فرمایا:۔وصیت کے احکام اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر بیان فرما دیئے ہیں۔انہی اصولوں پر وصیت کرنی چاہئے۔قرآن کریم نے لواحقین کے حقوق کو فوقیت دی ہے۔جماعت احمدیہ کے حق میں بھی وصیت 1/3 سے زیادہ کی نہیں ہو سکتی۔2/3 رشتہ داروں کا حق ہے۔البتہ کوئی وارث نہ ہونے کی صورت میں ساری جائیداد جماعت کے نام چھوڑی جاسکتی ہے“۔126اکتوبر ، لنڈن سوال: کیا اجتماعی طور پر لٹریچر کی تقسیم تبلیغ کے لئے مفید ہے؟ فرمایا:۔یہ طریقہ کار اس وقت مفید تھا، جب لوگوں کو مذہب میں دلچسپی تھی۔لیکن اب لوگوں کو مذہب سے اتنی دلچسپی نہیں رہی۔اگر بغیر ذاتی تعارف اور دلچسپی پیدا کئے ، آپ انہیں لڑر پچر دیں گے تو وہ شکریہ کے ساتھ آپ سے لے لیں گے لیکن بعد میں سرسری نظر ڈال کر یا بغیر نظر ڈالے اسے پھینک دیں گے۔اس لئے یہ طریق کا راب تک ایک طرح سے وقت اور لٹریچر ضائع کرنے کے مترادف ہے۔آپ تو یہ محسوس کر رہے ہوں گے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی خاطر لوگوں کو پیغام حق پہنچا دیا ہے لیکن حقیقتا انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔عام تعارف کے لئے آپ پریس اور اخبارات میں مذہب کے علاوہ دوسرے موضوعات پر مضامین اور خط وغیرہ بھجوائیں۔جب لوگ آپ سے ذاتی طور پر واقف ہو جائیں گے تو پھر مذہبی موضوع پر بھی لکھا جا سکتا ہے۔اس وقت آپ کی بات کو زیادہ اہمیت دی جائے گی اگر آپ واقعی یہ چاہتے ہیں کہ کسی کو تبلیغ کریں اور وہ آپ کی تبلیغ کے نتیجہ میں احمدیت قبول کرلے تو اس کے لئے ذاتی تعلقات بہت ضروری ہیں۔اگر آپ من حيث الجماعت چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوں تو اکا دکا بیعتوں سے کچھ نہیں بنے گا۔اس لئے آپ کو کم از کم ایک سو انگریزوں کو سال میں احمدی مسلمان بنانا ہو گا۔اس طرح سوسائٹی مجموعی طور پر آپ کی طرف متوجہ ہو جائے گی۔اس وقت کامیاب انفرادی تبلیغ کرنے والے چند لوگ ہیں ، جن کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔یہ چند لوگ واقعتا سنجیدگی سے فریضہ تبلیغ ادا کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی کوششیں بار آور بھی ہورہی ہیں۔باقی زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی ہے، جو خطبہ سن کر بڑے جوش کے ساتھ ارادہ کرتے ہیں لیکن پیشتر اس کے کہ وہ کوئی تعمیری کام کریں، ان کے 309