تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 308 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 308

ارشادات فرموده دوران مجالس عرفان 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم گے ، تب ہی حضرت مسیح موعود کو مانیں گے۔اسی طرح یہ ایک سلسلہ ہے، جس میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔حضور نے فرمایا کہ ” یہودی تو عملاً آخرت پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔لیکن نئی نسل چونکہ کچھ Rational ہے، اس لئے ہمیں ان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔اور امید رکھنی چاہیے، کیونکہ قرآن کریم میں تو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہود میں بھی اچھے لوگ ہیں۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ہدایت پا جائیں۔اور خدا کے فضل سے احمدیت کے ذریعہ بعض یہودی حلقہ بگوش اسلام ہوئے ہیں، اسرائیل میں بھی اور امریکہ میں بھی۔اور بعض تو بہت گرمجوش اور تبلیغ کرنے والے مسلمان ہیں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود بھیجنے والے ہیں۔پس اگر یہود کی نوجوان نسل کو تبلیغ کی جائے تو بہت مفید ہو سکتا ہے۔کیونکہ یہ بہت محنتی لوگ ہیں اور جس عقیدہ کو تسلیم کر لیں ، اس کی خوب پیروی کرتے ہیں۔( مطبوعہ ہفت روزہ النصر 26 جولائی 1985 ، و ضمیمہ ماہنامہ انصار اللہ اگست 1985ء) 25 اکتوبر، لنڈن سوال: کیا احمدیت قبول نہ کرنے پر دنیا عالمگیر جنگ کے ذریعے تباہ کر دی جائے گی؟ فرمایا: دنیا کے لئے پیغام احمدیت تو امن و سلامتی کا مشردہ جانفزا ہے۔احمدیت کو قبول کر کے دنیا اس عالمگیر تباہی سے بچ جائے گی ، جو خود ان کے صراط مستقیم سے ہٹ جانے کی وجہ سے ان کے سر پر عذاب النبی کی شکل میں منڈلا رہی ہے۔احمدیت کو قبول نہ کر کے وہ اس سزا کے مستحق ہوں گے، جو ان کے بد اعمال کی وجہ سے بہر حال ان کا مقدر بن چکی ہے“۔سوال: دنیا کی مکمل تباہی کی صورت میں احمدیت کس طرح پھیلے گی؟ فرمایا:۔قرآن کریم میں بڑی طاقتوں کی تباہی کا ذکر تو ہے لیکن تمام بنی نوع انسان کی تباہی کا ذکر نہیں۔اس جنگ میں بڑی طاقتوں کو نیچا دکھایا جائے گا اور دنیا کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو جائے گا۔باقی جورہ جائیں گے، ان کے سوچنے کا انداز بدل جائے گا۔وہ سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام بھی موجود ہے کہ رائیں تبدیل کر دی جائیں گی۔308