تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 271 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 271

تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 نومبر 1985ء نہیں ہے، اس لئے ایک مربی بھیجا جائے۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ مربیوں کا کام ہے، نماز سکھانا اور پڑھانا حالانکہ قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ والدین کا کام ہے۔گھر سے شروع کرو اور پھر مستقل مزاجی کے ساتھ نماز کو قائم کر کے دکھاؤ۔وہاں یہ عجیب سوال ہوتا ہے، میں حیرت سے دیکھتا ہوں، اگر تمہیں خود نماز نہیں آتی تو پہلے اپنی فکر کرو۔بچوں کی کیا بات شروع کی ہے؟ پہلے خود تو نماز سیکھو۔اور اگر خود نماز آتی ہے تو مربی کا کیا انتظار کرتے ہو؟ جو اولین مقصد ہے انسانی تخلیق کا اس مقصد سے محروم ہور ہے ہو، محروم رہ رہے ہو اور انتظار کر رہے ہو، کوئی آئے گا تو وہ ہمیں سکھا دے گا۔اتنے مربی نہ جماعت کے پاس ہیں، نہ یہ ممکن ہے کہ مربی دوسرے سارے کام چھوڑ دیں۔جتنے ہیں، اگر وہ سارے کام دوسرے چھوڑ دیں اور یہی کام شروع کریں تو تب بھی وہ پورے نہیں ہوں گے۔اس لئے قرآن کریم بڑا حکیمانہ کلام ہے۔وہ واقعاتی بات کرتا ہے، خیالی اور فرضی بات نہیں کرتا۔یہ ذمہ داری مربی پر نہیں ڈالی بلکہ ہر خاندان کے سر براہ پر ڈال دی ہے کہ تم کوشش کر وہ تمہاری ذمہ داری ہے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق بھی یہی بتایا کہ بڑی خوبیوں کا مالک تھا ، وہ اپنی اولا د کو اپنے اہل وعیال کو مستقل مزاجی کے ساتھ نماز کی طرف توجہ دلا تار ہتا تھا۔پس جماعت احمدیہ میں سب سے اہم کام اس وقت عبادت کو قائم کرنا ہے۔نماز کو نہ صرف قائم کرنا ان معنوں میں کہ ظاہراً کوئی شروع کر دے بلکہ اس کے اندر مغز کو اور روح کو بھرنا ہے۔اور جب تک سے نماز کا ترجمہ ساتھ نہ سکھایا جائے ، اس وقت تک نماز کے معنی انسان نماز پڑھتے وقت اپنے اندر " جذب نہیں کر سکتا۔ترجمہ سکھانے کے لئے باہر کی دنیاؤں میں اور بھی بہت سے ذرائع موجود ہیں۔مثلاً ویڈیو کیسٹس عام ہیں، آڈیو کیسٹس ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچوں کو ترجمہ سکھانے کے لئے ماں باپ کا ذاتی تعلق ضروری ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ویڈیوز کے اوپر آپ بنادیں اور ہم اپنے بچوں کو پکڑا دیں گے اور بے فکر ہو جائیں گے کہ ان کو نماز آنی شروع ہو گئی ہے، یہ درست نہیں۔عبادت کا تعلق محبت سے ہے۔اور محض رسمی طور پر ترجمہ سکھانے کے نتیجہ میں عبادت آئے گی کسی کو نہیں۔وہ ماں باپ، جن کا دل عبادت میں ہو، جن کو نماز سے پیار ہو، جب وہ ترجمہ سکھاتے ہیں، بچے سے ذاتی تعلق رکھتے ہوئے، بچہ اپنے ماں باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھ رہا ہوتا ہے، ان کے دل کی گرمی کو محسوس کر رہا ہوتا ہے، ان کے جذبات سے اس کے اندر بھی ایک ہیجان پیدا ہورہا ہوتا ہے۔وہ اگر نماز سکھائیں تو ان کا نماز سکھانے کا انداز اور ہوگا“۔پس آئندہ نسلوں کے اعتبار سے دیکھیں تو تب بھی جیسا کہ میں نے آیت کریمہ آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی تھی۔271