تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 268

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 نومبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم ہیں کہ یہ ناممکن ہے کہ اس سوسائٹی سے نکل کر اچانک ایک ایسا عجیب انقلاب آجائے کہ کلیہ ایک مختلف نوع کی بالکل پاکیزہ روحانی سوسائٹی وجود میں آجائے۔اس لئے معاشرے کا ماحول کا ایک گہرا اثر پڑتا ہے۔اگر معاشرہ رشوت خور ہے، اگر معاشرہ بے درد ہو چکا ہے، اگر معاشرہ نماز سے خالی ہو گیا ہے، اگر معاشرے میں خدا کا خوف نہیں رہا تو ہر روز ایسے لوگوں سے تعلق کے نتیجہ میں، واسطہ پڑنے کے نتیجہ میں، تجارتوں کے نتیجہ میں لین دین کے نتیجہ میں، ان محلوں میں رہنے کے نتیجہ میں، بعض بدیوں کو ، جو بظاہر حسن رکھتی ہیں، ان کو دیکھنے کے نتیجہ میں لازم اوہ سوسائٹی، جو تعداد کے لحاظ سے تھوڑی ہے، وہ متاثر ہوتی چلی جاتی ہے۔اس لئے بھی اور کچھ اس لئے بھی کہ بہت سے احمدی بلکہ بھاری اکثریت کے لحاظ سے اس وقت پاکستان میں ایسے ہیں، جن کے ماں باپ یا بعض صورتوں میں دادا اور بعض صورتوں میں پڑدادا احمدی ہوئے تھے اور غیر احمدیت سے احمدیت میں داخل ہونے کے بعد جو ابتدائی دکھوں کا دور آتا ہے، اس چکی میں سے وہ گزرے نہیں اور وہ تربیت حاصل نہیں کر سکے، جو پہلے زمانے میں صحابہ کو حاصل تھی یا بعد میں اول تابعین کو حاصل تھی۔اس لئے وہ نسلاً احمدی رہ گئے اور معاشرے کی خرابیوں نے ان پر زیادہ گہرا اثر کیا۔چنانچہ بہت سے اضلاع میں پاکستان میں، جہاں بھاری تعداد میں جماعت موجود ہے مگر ان کی اولادوں میں ، ان کی جوان نسلوں میں بہت سی ایسی خامیاں رہ گئی ہیں، جن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ایسے بعض اضلاع بھی میرے ذہن میں ہیں اور وہ اسلام کی فتوحات کے نئے علاقے بھی میرے ذہن میں ہیں۔مثلاً افریقہ کے ممالک، جن میں بعض جگہوں پر بڑی تیزی کے ساتھ احمدیت پھیلی ہے۔بعض صورتوں میں قبائل کے قبائل احمدی ہوئے ہیں۔بعض صورتوں میں دیہات احمدی ہوئے ہیں پورے کے پورے۔اور بعد ازاں ان کی تربیت کا پورا موقع نہیں مل سکا۔دور کے بعض جزائر ہیں ، وہاں بھی یہی کیفیت ہوئی۔چنانچہ تربیتی خلا پاکستان میں بھی ہیں اور پاکستان سے باہر بھی ہیں۔اور عظیم غلبہ سے پہلے ان کمزوریوں کا دور ہونا لازمی ہے۔اگر ان کمزوریوں کو دور کئے بغیر ہمیں فتح و نصرت عطا ہو جائے یعنی فتح و نصرت کا وہ تصوریل جائے ، جو عام لوگ رکھتے ہیں۔ایک فتح تو وہ ہے، جو ہمیں مسلسل ملتی چلی جارہی ہے، ایک نصرت تو وہ ہے، جو ایک لمحہ کے لئے بھی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑ رہی۔مگر میں اس وقت اس کی بات نہیں کر رہا، میں عرف عام میں جسے فتح ونصرت کہا جاتا ہے، یعنی ایک جگہ عددی غلبہ اتنا نصیب ہو جائے کہ اس کے بعد امن سے بیٹھ جائیں۔اس فتح و نصرت کے لئے یہ تیاریاں ضروری ہیں۔اور یہ دکھوں کا دوران تیاریوں میں مدد کرنے کے لئے آیا ہے اور مدد کر رہا ہے۔لیکن اس سے ابھی مزید استفادے کی ضرورت 268