تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 242
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اکتوبر 1985ء یہ آیت تحریک جدید- ایک الہی تحریک وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ فَإِنَّ اللهَ يَعْلَمُهُ وَ مَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ اپنی ذات میں ایک مکمل مضمون بیان کر رہی ہے۔اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بات ختم ہوگئی، اس کے بعد کسی اور مضمون کی ضرورت نہیں رہتی۔مگر بقیہ آیات جب اس مضمون کو پھر آگے بڑھاتی ہیں تو بعد اور معلوم ہوتا ہے کہ کئی ایسے گوشے تھے، جن کی وضاحت ضروری تھی۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ تم خرچ کرتے ہو، کسی قسم کا خرچ یا نذر مانتے ہوں کسی قسم کی بھی نذرفان اللہ یعلمہ اللہ اسے جانتا ہے۔مالی قربانی کرتے وقت خواہ وہ کسی رنگ کی ہو، تحفہ ہو یا صدقہ ہو یا دکھاوے کے لئے ہو، کسی غرض سے بھی خرچ کیا جائے، ہر خرچ کرنے والے کے سامنے ایک چہرہ ہوتا ہے، جس کی وہ رضا چاہتا ہے۔دکھاوا کرنے والے بھی جب خرچ کرتے ہیں تو عوام کا چہرہ ان کے سامنے ہوتا ہے۔بغیر دکھاوے کے اور بغیر ایسے مقصد کے، جس کے نتیجہ میں کوئی راضی ہو، کوئی انسان کوئی چیز خرچ نہیں کرتا۔اپنے لئے بھی خرچ کرے تو خود جانتا ہے، اپنے بیوی بچوں کے لئے خرچ کرے تو اسے چین نہیں آسکتا، جب تک ان کو پتہ نہ چلے کہ خرچ کرنے والا کون ہے؟ اس لئے پنجابی میں کہتے ہیں ، سوئے ہوئے بچے کا منہ چومنے کا فائدہ کیا ؟ اس کو پتہ نہیں چلتا کہ کون منہ چوم گیا۔مائیں بھی چوستی ہیں تو ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ بچے کو معلوم ہو کہ کس نے اس کا منہ چوما ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان سارے امکانات کا ذکر اس آیت میں کر کے فرمایا ہے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہونے کی وجہ سے جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو، اللہ کی خاطر خرچ کرتے ہو۔اس لئے یہاں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ سوئے ہوئے بیٹے کا منہ چوم رہے ہو۔بلکہ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ہمہ وقت جاگنے والے آقا کے قدموں میں تم ایک نذر پیش کر رہے ہو۔اور وہ ہر حال میں، ہر وقت نہ صرف تمہاری مالی قربانی کے ظاہر سے واقف ہے بلکہ اس کے پس پردہ جذبات سے بھی واقف ہے۔نہ صرف یہ کہ نیتوں کے اچھے پہلوؤں سے واقف ہے بلکہ نیتوں کے بعد پہلو سے بھی واقف ہے۔اس لئے اس آیت میں جہاں ایک حوصلہ دلایا، ایک یقین دلایا کہ ہماری مالی قربانیاں کسی حالت میں بھی ضائع نہیں جا سکتیں، جس چہرے کی رضا کی خاطر ہم پیش کر رہے ہیں، اسے خوب خبر ہے، وہاں ایک انذار بھی فرما دیا کہ دنیا والوں کو تو تم دھوکا دے سکتے ہو، دنیا والوں کے لئے تو تم یہ کر سکتے ہو کہ خرچ کسی اور مقصد کے لئے کر رہے ہو اور دادطلبی کسی اور سے کر رہے ہو۔بسا اوقات اپنا احسان جتار ہے ہو کسی اور شخص پر اور مقصد بالکل اور ہے۔چنانچہ بڑے بڑے ریا کارایسے ہیں، جو غرباء پر خرچ کرتے ہیں اور مقصد یہ ہے کہ قوم میں ان کی 242