تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 16
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 22 مارچ 1985ء تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد هفتم اور خود پاکستانی نمائندے، جو مختلف وقتوں میں وہاں دورہ کرتے رہے ہیں، ان میں سے ایک کی زبانی سینے کہ جماعت احمد یہ کیا ہے؟ اور کس طرح اس مسئلہ سے نمٹا جا چکا ہے؟ پاکستان ٹائمنر لاہور میں ایک مضمون شائع ہوا، جسے مشرق وسطی کے نمائندہ خصوصی فرید ایس جعفری نے لکھا تھا۔جعفری صاحب حکومت پاکستان کی طرف سے بھجوائے جانے والے اس کشمیر ڈیلی گیشن کا ذکر کرتے ہیں، جو افریقہ کے دورہ پر گیا تھا۔جعفری صاحب خود بھی اس وفد میں شامل تھے۔انہوں نے یہ نوٹ انگریزی میں لکھا ہے، میں اس کا اردو میں ترجمہ پڑھ کر سنا دیتا ہوں :۔احمدی مبلغین حیرت انگیز طور پر بہت مقبول ہیں۔یہاں تک کہ صدر نکرومہ کے نزدیک بھی وہ ہر دل عزیز ہیں۔مجھے بتایا گیا کہ وہ حقیقی معنوں میں انسانی خدمت کر رہے ہیں۔کیونکہ وہ نانا کے نو جوانوں کو مذہبی اور دنیوی تعلیم دیتے ہیں اور کسی قسم کی تلخی یا نفرت لوگوں کے درمیان پیدا نہیں کرتے۔( تم تو کہتے ہو، تلخی پیدا کرنے جاتے ہیں، نفرت پیدا کرنے جاتے ہیں۔لیکن تمہارے یہ اپنے نمائندے، جو وفد کا حصہ تھے ، وہ کہ رہے ہیں کہ احمدی کسی قسم کی تلخی اور نفرت پیدا کرنے کے لئے نہیں آئے بلکہ ) وہ درحقیقت لوگوں کے درمیان اتحاد کے لئے کام کر رہے ہیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ احمدی مبلغین کا لوگوں سے رابطہ عیسائی مبلغین سے بھی بہتر ہے۔انہیں خوش آمدید کہا جاتا ہے اور پسند کیا جاتا ہے۔مجھ سے پاکستان ٹائمنر لاہور 14 اگست 1964 ، صفحہ 14-12) اس قسم کے اور بھی بہت سے حوالے ہیں لیکن اس مضمون کا ایک اور حصہ بیان کرنا ضروری ہے، " اس لئے اس کو میں سر دست ختم کرتا ہوں“۔تمہارے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ اس شخص کو قبول کرو، جسے خدا نے علم و عرفان بخشا ہے۔جس کے متعلق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری ہے۔وہ، جو خدا کی طرف سے تمہارے لیے ہر مصیبت، ہر بیماری کا علاج لے کر آیا تھا۔اس کو تو تم نے رد کر دیا ہے۔اب پیچھے اپنے لئے تم کیا چاہتے ہو۔یہ جو کچھ تھا، یہ میں نے تمہیں پڑھ کر سنا دیا، اس کے سوا تمہارا اور کوئی مقدر نہیں۔اگر زندگی چاہتے ہو تو ان لوگوں سے نجات حاصل کرو، جن کو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام فتنوں کی آماجگاہ قرار دیا اور تمام فتنوں کا منبع و ماولی قرار دیا۔یاد رکھو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کے بعد تم 16