تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 234
خطبہ جمعہ فرموده 118اکتوبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم بلند ہوا کرتی تھی، تمہاری پیشانیوں پر وہ نور تھا، جو سجدہ کرنے والوں کی پیشانیوں کو عطا ہوا کرتا ہے۔پس اگر چہ تم آج تہ خاک جاسوئے ہو اور تمہارے ظاہری وجود کا کوئی بھی نشان باقی نہیں۔سوائے ان گڑھوں کے جو بے ڈھیلوں آنکھوں کی طرح بے نور گڑھے دکھائی دے رہے ہیں اور بظاہر یہ اسلام کی موت دکھائی دیتی ہے مگر میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ جس طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے معرفت کا یہ نکتہ بیان کیا تھا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر دو موتیں جمع نہیں ہو سکتیں، آپ کے ماننے والوں پر بھی دو موتیں جمع نہیں ہو سکتیں۔ان کے جسم تو مر سکتے ہیں مگر ان کے دین کو نہیں مرنے دیا جائے گا۔پس میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ ساری جماعت احمد یہ اس بات کا عہد کر رہی ہے اور اس عہد کو ہمیشہ نبھاتی رہے گی کہ جب تک اسلام دوبارہ پین میں اسی شان کے ساتھ دوبارہ زندہ نہ ہو بلکہ اس سے بڑھ کر شان کے ساتھ دوبارہ زندہ نہ ہو، جس طرح پہلی بار پین میں زندہ ہوا تھا ، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ہم مسلسل جد و جہد کرتے رہیں گے ، ہم مسلسل کوشش کرتے رہیں گے۔ہم تو اس آقا کے غلام ہیں، جس نے بیابان میں یہ عجیب ماجراد کھایا تھا کہ صدیوں کے مردوں کو ، ہزاروں سال کے مردوں کو دوبارہ زندہ کر دیا تھا۔وہ مردے الہی رنگ پکڑ گئے تھے۔آج بھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی شان۔احیائے موتی کے صدقے اور آپ ہی کے طفیل ہم اس مردہ سپین کو دوبارہ زندہ کریں گے۔پس ہمارا انتقام تو وہی ہے، جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظام تھا، اس عفو کے شہزادے کا انتظام تھا۔جو آپ پر موت برسانے کی کوشش کرتے تھے، آپ انہیں زندگی عطا کرتے تھے۔پس اے اسلام کے نام پر مارے جانے والو! ہم تمہاری خاطر، تمہاری ہی طرف سے سارے پین میں زندگی کا پانی بکھیریں گے۔ان مردوں کو جو بظا ہر سطح زمین پر بس رہے ہیں اور در حقیقت قبرستان کا منظر پیش کر رہے ہیں، ان کو ہم زندہ کریں گے اور ان میں دوبارہ اسلام کی روح کو دوڑتا ہوا اور پنپتا ہوا دیکھیں گے، انشاء اللہ تعالیٰ۔اور سپین سے انشاء اللہ ساری دنیا کے لئے اسلام کے مبلغ نکلیں گے۔اور ساری دنیا میں سپینش مسلمان اسلام کا جھنڈا بلند کرنے کے لئے عظیم الشان قربانیاں دینے لگے گا۔یہ ہمارا مقصد اور ادعا ہے۔اور میں عہد کرتا ہوں، اے خدا! تو ہمیں توفیق عطا فرما، ہم اس عہد کو پورا کرنے والے ہوں کہ اس قبرستان کو جو ظاہری مسلمانوں کا قبرستان ہے، سارے سپین کے لئے زندگی کا سر چشمہ بنا دیں گے۔آج اس قبرستان نے جو میرے دل کو زخمی کیا ہے اور جو میری روح کو چھ کے لگائے ہیں ، اے خدا! اس سے ایسے خون کی آبشار نکال، ایسے خون کے سوتے نکال، جو سارے سپین کو ترو تازہ کر دیں اور اسلام کا نیا 234