تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 233 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 233

تحریک جدید - ایک ابی تحریک۔۔۔جلد هفتم خطبه جمعه فرموده 18اکتوبر 1985ء اچانک میرے ساتھی ڈاکٹر منصور الہی صاحب نے بتایا کہ یہاں ایک قبرستان ہے۔اور یہ مسلمانوں کا ایک ہی قبرستان ہے، جو آج تک باقی ہے۔چنانچہ میں نے دائیں طرف نظر ڈالی تو ابھی تک اس کے اوپر قبرستان کے متعلق عبارت لکھی ہوئی تھی اور اندر جا کر ہم نے دیکھا تو اکثر قبریں بالکل گڑھے بن چکی تھیں۔جس طرح اندھی آنکھیں ہوتی ہیں، ان میں آنکھ کا ڈھیلا نہ ہو۔اس قسم کی ان قبروں کی شکلیں تھیں۔اور وہ قبریں بڑی ہی دردناک حالت میں تھیں۔وہ بہت وسیع علاقہ ہے۔وہ پہاڑی کا، ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے، جو تمام کی تمام کسی زمانے میں غرناطہ کے مسلمانوں کے لئے قبرستان کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔وہاں کوئی کتبہ باقی نہیں ہے۔صرف پتھروں کے کچھ نشان اور کچھ قبروں کے گڑھے ہیں۔بعض جگہ لوگوں نے تھوڑی سی مٹی ڈال کر اس کو برابر کیا ہوا ہے۔اور چند قبریں ہیں، جو تازہ ہیں۔مگر اکثر قبریں بڑی پرانی ہیں۔وہاں دعا کے وقت ایک خاص کیفیت دل میں پیدا ہوئی۔اور ذہن پرانی ماضی کی تاریخ میں چلا گیا۔نہیں کہہ سکتا تھا، میرے لئے معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ ان میں سے اولین دور کے غازی کون سے ہیں؟ اور آخری دور کے وہ بدقسمت کون ہیں، جنہیں اپنے ہاتھوں سے چین کو غیروں کے سپرد کرنا پڑا؟ مگر یہ مجھے محسوس ہوا کہ اس مٹی میں دونوں خون ملے ہوئے ہیں۔ان غازیوں کا بھی خون ہے، جنہوں نے خون دے کر اسلام کی عظمتوں کے لئے ایک عظیم الشان سلطنت قائم کی اور ان محروموں کا خون بھی اس میں ملا ہوا ہے، جو بد قسمتی سے ایسے زمانے میں داخل ہوئے کہ جب وہ اپنی وراثت کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے تھے۔اس عظیم الشان غازیوں نے ورثے میں جو دولتیں عطا کیں، ان کی حفاظت کرنے کے بھی وہ اہل نہ رہے تھے۔تو وہاں وہ قبرستان کیا تھا، وہاں سپین کا مشرق بھی تھا اور چین کا مغرب بھی تھا۔جہاں سے سورج طلوع ہوتا تھا، وہ جگہ بھی دکھائی دے رہی تھی اور جہاں سورج غروب ہو گیا تھا، وہ جگہ بھی دکھائی دے رہی تھی۔اس وقت میں نے دعا کی کہ اے خدا! یہ لوگ تو مٹی ہو گئے ، ان کے ظاہری بدن تو مٹی ہو گئے لیکن ان کی روحیں تیرے حضور زندہ ہیں۔میری آواز براہ راست تو ان تک نہیں پہنچ سکتی لیکن میری آواز کو تو ان تک پہنچا سکتا ہے۔اس لئے آج میں ان کو ایک پیغام دیتا ہوں تمام جماعت احمدیہ کی طرف سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلیفہ کے حیثیت سے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے یہ پیغام ان کو دیتا ہوں گو کہ اگر چہ تم مر گئے اور زیرزمین جاسوئے لیکن در حقیقت میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تم نہیں بلکہ سارا سپین مر گیا۔تم ہی زندگی کے نشان تھے تم ہی وہ تھے، جو اس چمنستان کی زینت تھے، اس کی رونق تھے، تمہارے دم قدم سے سپین کی آبادیاں تھیں، تمہاری آوازوں کے ساتھ خدا کی تکبیر یہاں 233