تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 223 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 223

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اکتوبر 1985ء میں بہرا ہوں تو مجھے چھوڑ تو نہیں دو گے، ذرا اور اونچی آواز میں اور بار بار مجھے آواز پہنچاؤ۔چنانچہ میں نے وہاں افتتاح کے وقت اپنے اس رد عمل کا اظہار یوں کیا کہ جہاں تک جماعت احمدیہ کا رد عمل ہے، وہ تو یہ ہے کہ اب ایک نہیں انشاء اللہ تعالیٰ فوری طور پر فرانس میں دو مرکز بنائیں گے۔اور یہ تو ایک مکان لیا گیا ہے، بڑا اچھا اور وسیع مکان ہے، بہت کشادہ کمرے ہیں اور کچھ عرصہ تک جماعت کی آئندہ ضروریات کے لئے انشاء اللہ تعالیٰ بہت حد تک کفیل رہے گا۔لیکن اب خیال یہ ہے کہ یا پیرس کے گردو نواح میں یا جنوبی فرانس میں، جہاں لوگوں کے اخلاق بہتر معلوم ہوئے ہیں، وہاں ایک وسیع خطہ زمین لے کر وہاں نہایت خوبصورت اور عظیم الشان مسجد بنائی جائے۔اور مسجد کے ساتھ پھر مشن ہاؤس بھی قائم کیا جائے۔تو ہم تو انشاء اللہ تعالیٰ وہ لوگ نہیں ہیں، جن کے خمیر میں مایوسی پائی جاتی ہو یا شکست لکھی گئی ہو۔ہم تو انشاء اللہ تعالیٰ اہل فرانس کو بہر حال فتح کریں گے اور ان کے دل جیتیں گے۔کیونکہ فرانس کو ایک عالمی حیثیت حاصل ہے۔اس کے اثرات دنیا میں اور بھی بہت سے ملکوں اور قوموں پر پڑتے ہیں۔اگر فرانس میں احمدیت کا مشن مضبوط ہو جائے تو کثرت کے ساتھ دنیا میں فرانسیسی بولنے والے علاقے ہیں، جہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے نفوذ کی راہیں نکل آئیں گی۔اس لئے یہ غیر معمولی اہمیت کا علاقہ ہے، اسے ہم بہر حال نہیں چھوڑیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس زمانہ میں غیر معمولی مالی مشکلات اور بعض دوسری وقتی پیش نہ ہوتیں تو حضرت مصلح موعود بھی اس مشن کو بند نہ کرتے۔مگر دوسرے بیرونی ممالک سے طلب شروع ہو چکی تھی اور اس زمانہ میں واقفین بھی تھوڑے تھے اور جماعت احمدیہ کی مالی حالت بھی ایسی نہیں تھی کہ ہر قسم کے پھیلتے ہوئے مطالبوں کو پورا کر سکے۔اس لئے لازمنا حضرت مصلح موعود کے مزاج کو میں سمجھتا ہوں، کبھی ہو نہیں سکتا کہ آپ نے مایوسی کی حالت میں مشن بند کیا ہو۔وقتی طور پر اس ارادہ کے ساتھ بند کیا ہوگا کہ بعد میں جب بھی خدا توفیق دے گا، ہم انشاء اللہ بڑے زور کے ساتھ اس کام کو دوبارہ شروع کریں گے۔تو اس کام کو دوبارہ شروع کرنے کا خدا کے فضل سے اس دورے میں آغاز ہو چکا ہے۔باقی احباب جماعت دعائیں کریں، اللہ تعالیٰ دلوں کو بدلنے والا ہے۔اور فرانس کی سرزمین کو جو عملاً اسلام کی طلب پیدا ہو چکی ہے، اس کے دوسرے آثار ظاہر ہورہے ہیں۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم دوبارہ اب پورے زور کے ساتھ یہاں کوشش کریں اور دعاؤں کی مدد سے ہم انشاء اللہ تعالیٰ کامیاب ہوں گے۔اس سفر میں پانچ مراکز کا افتتاح کرنے کی توفیق ملی۔اور چار جگہ نئی زمینیں دیکھی گئیں، جہاں سودا ہو رہا ہے۔اور امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ وہاں بھی اس سال کے اندریا اس سال کے آخر تک زمینیں خرید لیں گے۔اور ہو سکتا ہے آئندہ سال ہم وہاں با قاعدہ مشنوں کی تعمیر کا کام بھی شروع کر دیں۔223