تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 221
تحریک جدید - ایک الہی تحریک الہی خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اکتوبر 1985ء دورہ یورپ کے حالات اور احیاء دین کا عزم خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اکتوبر 1985ء تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔یورپ کا یہ سفر ، جوا بھی ہم نے اختیار کیا، تقریباً ایک مہینے اور چار دن کا سفر تھا۔اور یہ تمام عرصہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت ہی مصروفیت میں کٹا۔یہ سفر مصروف بھی بہت رہا اور کئی لحاظ سے خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کے احسان کے ساتھ بہت مفید بھی ثابت ہوا۔اس سفر کے دوران خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان کے نتیجہ میں پانچ نئے مراکز کے افتتاح کی توفیق ملی۔جن میں سے آخری مرکز جس کا افتتاح کیا گیا، وہ فرانس کا تھا۔اس سے پہلے تو یہی ارادہ تھا کہ فرانس میں انگلستان کی جماعت کو خصوصیت سے شمولیت کی عام دعوت دی جائے اور اس کے لئے دعوت عملا دی بھی گئی اور تیاریاں بھی بہت ہو چکی تھیں۔لیکن ہم سپین میں ہی تھے تو معلوم ہو او ہاں ابھی تیاری مکمل نہیں۔اور جس جگہ مشن کھولا جارہا ہے، وہاں کے ڈپٹی مئیر کا رویہ بھی معاندانہ ہے۔اور اس مشن کو آسانی سے وہ قبول نہیں کر رہے۔اس لئے ان حالات میں بہتر ہے کہ تقریب یا تو نہ کی جائے یا مختصر کی جائے۔چنانچہ نہ کرنے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔اس لئے میں نے کہا کہ فرانس کی جماعت کے جو دوست ہوں گے، ان کے ساتھ مل بیٹھ کر ہم دعا کے ذریعہ افتتاح کر دیں گے۔رفتہ رفتہ جب ان لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ہم کیسے ہیں؟ کیسا اخلاق رکھتے ہیں؟ تو ان کے دل جیتنے کی بعد پھر آہستہ آہستہ کیفیت بدل جائے گی۔امر واقعہ یہ ہے کہ فرانس کے ساتھ احمدیت کا جو پہلا رابطہ ہوا ہے، وہ بھی کوئی ایسا خوشکن اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا۔یہ 1946 ء کی بات ہے، جب حضرت مصلح موعودؓ نے یورپ میں جنگ کے بعد نئے مشن ہاؤسز، نئی مساجد کی تعمیر کا پروگرام بنایا اور اسی سال سے نافذ العمل کرنا شروع کر دیا۔اس میں فرانس بھی تھا۔اور 1946ء میں اگر چہ کرایہ کا مکان تھا، با قاعدہ کوئی عمارت تو خریدی نہیں جاسکی یا مسجد کے لئے زمین بھی نہیں لی گئی۔لیکن سپین کی طرح یہاں یہی مبلغ بھجوادیئے گئے تھے، جو تقریبا پانچ سال پیرس میں ٹھہرے ہیں۔اور ان کی رپورٹوں سے یہی تاثر لیا گیا، حضرت مصلح موعود نے بعض دفعہ خطبوں میں بھی 221