تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 208
خطبہ جمعہ فرموده 04 اکتوبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم جب یہ اعلان کیا گیا کہ جو دوست سوال کرنا چاہیں کسی موضوع پر تو شوق سے سوال کریں۔تو اتنی دیر ہو گئی ، ساڑھے چھ سے بلایا ہوا تھا رات کے دس بج گئے اور اس سے بھی اوپر وقت ہورہا تھا۔اور یہ شام کی چائے تھی، کھانے کا وقت بھی نہیں تھا۔ان کا کھانے کا وقت گزر چکا تھا اور ہماری طرف سے کھانا پیش نہیں تھا، اس کے باوجود وہ دوست اٹھ نہیں رہے تھے۔اور اتنی بھر پور مجلس ہوئی ہے، ہر قسم کے موضوعات پر سوالات کئے گئے اور ان معززین نے اتنی گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے کہ حیرت ہوتی تھی کہ جس طرح ہمارے ملکوں میں ایک رویہ ہوتا ہے، اخلاق اور محبت سے سوالات کرنے اور جواب لینے کا عام طور پر مغربی دنیا میں یہ نظر نہیں آتا۔مگر بالکل وہی رنگ اور وہی کیفیت پیدا ہوگئی تھی بلکہ ہمارے بعض ساتھی تو جواب دیتے وقت میر امنہ دیکھنے کی بجائے ان لوگوں کے منہ دیکھ رہے تھے جو جواب سن رہے تھے اور کبھی ان کے چہرے پر نظر پڑتی تھی تو ان کی بشاشت سے مجھے بھی یہ اندازہ ہوجاتا تھا کہ یہ جواب کس رنگ میں قبول کیا گیا ہے۔چنانچہ بعضوں نے بعد میں کہا کہ سوال کرنے والا تو جواب سنتے وقت اتنا تائید کرتا تھا کہ حیرت ہوتی تھی کہ اس کا سر مسلسل تائید میں ہلتا ہی چلا جاتا تھا۔جب دس سے زیادہ وقت ہو گیا تو میں نے خود یہ اعلان کیا کہ ہو سکتا ہے بعض شرفاء اخلاق کی وجہ سے محض رک گئے ہوں، یہاں سے جانا بد اخلاقی سمجھتے ہوں اور ان کو ضرورت ہو، اس لئے اگر چہ سوال ختم نہیں بھی ہوئے تو میں سمجھتا ہوں کہ مجلس کو ختم ہونا چاہئے۔جب یہ بات ہوئی تو اس وقت بھی ہاتھ اٹھنے شروع ہو گئے۔بہر حال میں چونکہ اعلان کر چکا تھا تو مجلس کو ختم کیا گیا۔لیکن رخصت ہوتے وقت بعض لوگوں نے شکوہ کیا کہ ہم نے تو ابھی سوال اور کرنے تھے اور وقت چاہئے تھا۔چنانچہ ایک خاتون تھیں، انہوں نے کہا کہ میرے تو حیات بعد الموت کے متعلق بڑے ضروری سوالات ہیں، مجھے تو ان کے لئے وقت چاہیئے۔کچھ اور صحافی اکٹھے ہو گئے اور وہیں دوبارہ پھر ایک مجلس لگ گئی اور کوئی نصف گھنٹہ کے قریب کھڑے ہو کر ان سے باتیں ہوئیں۔پھر انہوں نے کہا: جی ہمارے تو سوال ختم ہی نہیں ہوئے ، اب کیا کیا جائے۔دوسرے دن جو مجلس تھی ، وہ ہمارے احمدیوں کے لئے رکھی ہوئی تھی۔عموماً جو ہماری مجلس سوال و جواب ہوتی ہے۔تو ہم نے پھر اس کو بھی ان غیروں کے لئے مجلس میں بدل دیا اور ان کو کہا کہ آپ کل تشریف لے آئیں۔تو اس خاتون نے کہا: میں تو Appointment کینسل کر کے آؤں گی اور مجھے تو جب تک سوال کے جواب نہ ملے، میری تسلی نہیں ہوئی۔ایک احمدی سے بعد میں اس نے کہا کہ ساری زندگی کے میرے خیالات بدل گئے ہیں اس مجلس میں، اب مجھے اپنی زندگی کا ایک نیا نقشہ بنانا ہو گا ، اس 208