تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 209

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرموده 04 اکتوبر 1985ء لئے میرے لئے ضروری ہے کہ میں جاؤں اور بقیہ سوالات کروں۔اسی طرح ہمارے دوسری مجلس میں اور و بھی بعض معززین جو سوال نہیں کر سکے تھے، وہ وہاں پہنچے ہوئے تھے۔کچھ ہمارے ہمسائے تھے، وہ وہاں پہنچے ہوئے تھے۔اور دوسری مجلس نماز مغرب کے بعد شروع ہوئی اور اتنی دیر ہوگئی کہ ان کو کھانا پیش کرنا تھا، اس میں دیر ہو رہی تھی۔پھر ہم نے کھانے کا اعلان کیا اور دوبارہ یہ کہا کہ کھانے کے بعد دوست جو تشریف لے جا سکتے ہیں۔ہاں اگر کسی نے ضرور ٹھہرنا ہے تو پھر بے شک ٹھہر جائے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ اکثر ان میں سے ٹھہر گئے۔پھر اور رات تقریباً ساڑھے گیارہ یا پونے بارہ بج گئے اور بعض ہمارے ساتھی سفر کے تھکے ہوئے نظر آ رہے تھے تو ان سے میں نے کہا کہ انہوں نے آگے سفر کرنا ہے، یہ بیچارے تھک گئے ہیں، ترجمہ کرنے والے تھک گئے تھے۔آخر انہوں نے جواب ہی دے دیا۔دوستوں نے بھی کہا کہ ہمیں انگریزی کی اتنی سمجھ آجاتی ہے تو یہ وقت ضائع ہو گا، اس لئے ترجمہ نہ ہی کروایا جائے۔یہ میں بتارہا ہوں اس لئے کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتنی گہری توجہ ہے اور اسلام میں ایک حقیقی دلچسپی پیدا ہو چکی ہے۔شروع میں اس طرح سوالات کرتے ہیں، جس طرح کوئی اسلام پر باقاعدہ حملہ کر رہا ہے اور آخر پر طفل مکتب کی طرح ان کے سوالات کا رنگ ہو جاتا تھا۔علم کی خاطر مزید تجسس کے لئے کہ کیا ہے؟ کچھ ہمیں بھی حقیقت معلوم ہو۔یہ جو کیفیات ہیں، یہ اللہ کی دین ہے اور اب تک میں نے جتنے ملکوں کا دورہ کیا ہے، ان سب میں یہ قدر مشترک ہے۔شروع کے چہرے اور ہوتے ہیں، بعد کے چہرے اور ہوتے ہیں۔شروع میں سوالات کا رنگ اور ہوتا ہے، بعد میں سوالات کا رنگ اور ہوتا ہے۔اور یہ اس وجہ سے کہ اسلام کے متعلق ان کو شروع میں غلط فہمیاں بہت ہیں۔جب وہ سوال شروع کرتے ہیں تو ایک اور اسلام کا تصور باندھ کر سوال شروع کرتے ہیں اور چند جوابات میں جب اسلام کی حقیقی شکل ان کو نظر آتی ہے تو اس حقیقی شکل میں اتنا حسن ہے، اتنی جاذبیت ہے، اتنی دلربائی ہے اسلام میں کہ ان کے ذہنوں کا نہیں ، دلوں کا تعلق ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔اور بالکل بدلی ہوئی کیفیت میں پھر لوگ رخصت ہوتے ہیں۔یہ وہ رو ہے، جو خدا تعالیٰ کی طرف سے چلائی گئی اور اس سے ہمیں بہر حال مزید استفادہ کرنا ہے۔جس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ ہر احمدی مبلغ بنے۔ہر احمدی اپنے ماحول میں ان مخفی بے چینیوں کو ابھارے جو بے چینیاں اس وقت سارے مغرب کو بے قرار کئے ہوئے ہیں۔اور انہیں سب کچھ حاصل ہونے کے باوجود گویا کچھ بھی حاصل نہیں ہے۔ان کو ٹول کر دیکھیں تب آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کی ظاہری 209