تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 207 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 207

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطبہ جمعہ فرموده 104اکتوبر 1985ء حاضر ہوں تو کوئی خاتون ان بچوں کو کھلائیں اور ان کا بہلائیں تاکہ نمازوں میں بچوں کے شور کی وجہ۔خلل واقع نہ ہو، ان کے بچوں کے لئے ایک الگ کمرہ رکھ دیا گیا ہے۔ان کے وضو غیرہ کرنے کے لئے علیحدہ جگہ۔چھوٹا سا ایک باورچی خانہ بھی مہیا کر دیا گیا ہے، یعنی آئندہ کے Plan میں۔اسی طرح مردوں کے لئے الگ چھوٹا سا باورچی خانہ، آئے گئے کے لئے چائے بنانے وغیرہ کے لئے اور غسل خانوں کا انتظام، مزید رہائش کے کمرے۔گویا کہ قانون جس حد تک بھی وسعت کی اجازت دے سکتا ہے اس زمین کی نسبت سے، انشاء اللہ تعالیٰ اس مشن کو وسعت دے دی جائے گی۔جہاں تک لوگوں کا تعلق ہے، جماعت کے لئے خدا تعالیٰ نے اس قدر دل نرم کر دیئے ہیں کہ اب جو میر انختصر قیام تھا اس میں بھی بالکل صاف نظر آرہا تھا کہ ایک نئی روجماعت کی طرف توجہ کی پیدا ہو رہی ہے۔بنیادی طور پر پروگرام میں دو حصے تھے۔ایک معززین شہر کو ایک ہوٹل میں دعوت دی گئی تھی اور اس میں بڑے بڑے چوٹی کے جو مختلف ممالک ہیں، بڑی بڑی طاقتیں کہلاتی ہیں، ان کے جو نمائندے وہاں زیورک میں موجود تھے ، وہاں اور چھوٹے ممالک جو ہیں، جو بیچارے Third world countries کہلاتے ہیں، ان کے نمائندوں کو بھی بلایا گیا، چوٹی کے صحافیوں کو بھی بلایا گیا، چوٹی کے وکلاء اور دوسرے دانشوروں اور پروفیسروں وغیرہ کو بلایا گیا۔اور توقع سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے دعوت کو قبول کیا اور بعض بڑی بڑی طاقتوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔افریقہ کے ممالک کے اور دیگر بعض ممالک کے نمائندے بھی خدا کے فضل سے وہاں تشریف لائے ہوئے تھے۔چوٹی کے دانشور وہاں موجود تھے، ایسے صحافی بھی تھے، جن کا سارے ملک میں وقار ہے اور بڑی عزت سے ان کو دیکھا جاتا ہے، بڑے عالم ، پروفیسر صاحبان، میٹر، اسمبلیوں کے ممبر اس قسم کا طبقہ موجود تھا اور خدا کے فضل سے ہر طبقہ کی اچھی نمائندگی تھی۔چائے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد عموماً ایسی Receptions میں تعارف ہوتا ہے اور چند باتوں کے بعد پھر مجلسیں برخاست ہو جایا کرتی ہیں۔لیکن ملاقات کے دوران ہی بعض دوستوں نے بعض باتیں جماعت کے متعلق معلوم کرنی چاہیں تو میں نے ان سے کہا کہ بجائے اس کے کہ میں ایک ایک کو جواب دوں، ہم اکٹھے بیٹھیں گے بعد میں، اس کے بعد آپ سب سے بات ہو جائے گی۔چنانچہ میرا یہ خیال تھا کہ چند لوگ بیٹھ جائیں گے اور اکثر کی پہلے سے ہی مصروفیات ہوتی ہیں اور جلدی جانا پڑتا ہے، ایسے سب لوگ چلے جائیں گے۔لیکن سوائے ایک دوست کے جنہوں نے پہلے ہی مجھے کہا تھا صبح بھی وہ ملنے آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ شام کو میں جلدی اجازت چاہوں گا کیونکہ میری ایک Appointment ہے، ان کے سوا کوئی بھی اٹھ کر نہیں گیا۔، 207