تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 197 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 197

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 27 ستمبر 1985ء جہاں تک ہیمبرگ کی زمین کا تعلق ہے، جیسا کہ میں نے وہاں بھی ذکر کیا تھا، ہم نے وہاں جگہیں دیکھی ہیں۔اور ایک جگہ خصوصیت کے ساتھ بہت ہی اچھی ہے، جو بہت پسند آئی ہے۔ان کے ساتھ گفت وشنید چل رہی ہے۔دعا کرنی چاہئے اور میں دعا کی تحریک کرتا ہوں کہ اگر وہ اللہ کے نزدیک جماعت احمدیہ اور اسلام کے حق میں بہتر جگہ ہے اور سعید روحوں کو کھینچنے کے لئے جذب کرنے کے لئے اس نے کوئی اہم کردار ادا کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ نہ صرف یہ کہ وہ جگہ ہمیں عطا فرمائے بلکہ پھر وہاں نہایت ہی خوبصورت شاندار مسجد بنانے کی بھی توفیق بخشے اور اپنے فضل سے ساری ضرورتیں پوری فرمائے۔بہر حال فرینکفرٹ کے سارے واقعات تبلیغی قصے بیان کرنے تو مشکل ہیں۔اب میں جنوبی حصہ کی بات کرتا ہوں کہ فرینکفرٹ سے پھر ہم میونخ پہنچے۔میونخ کا علاقہ ایسا ہے، جہاں ابھی کچھ عرصہ پہلے ہم نے مبلغ بھیجا ہے۔ارد گرد کچھ جماعتیں ہیں لیکن کوئی مرکز نہیں اور مبلغ بھی کرائے کے مکان میں رہتا ہے اور شہر بہت بڑا ہے۔اور میونخ گوار یا کا سب سے اہم مرکز ہے۔یہاں کے لوگ بھی اپنے مزاج کی خاص رعونت کے لحاظ سے مشہور ہیں اور عام لوگوں کو اور عام باتوں کو خاطر میں لانے والے لوگ نہیں ہیں۔تو باقی جرمن قوم کے مقابل ہمیشہ سے تاریخی طور پر یہی رویہ رہا ہے۔ان مشکل حالات میں وہاں کسی خاص غیر معمولی کامیابی کی توقع تو نہیں تھی۔مگر بہر حال چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے کام ہیں، اسی نے کرنے ہیں، اس لئے جو وہاں پروگرام رکھا گیا، غیروں کو بھی بلایا گیا ملاقات کے لئے مگر بہت زیادہ نہیں آئے۔جہاں تک سوال و جواب کی مجلس کا تعلق ہے، میرا خیال ہے، پندرہ میں مہمان تھے ، جو آئے تھے۔باقی احمدی ہی اردگرد سے اکٹھے ہو گئے۔جہاں تک پریس کانفرنس کا تعلق ہے، اس میں بھی وہی رویہ تھا یعنی عدم تعلق تھا لاعلمی کی وجہ سے۔فرینکفرٹ ہیمبرگ وغیرہ میں تو خدا کے فضل سے جماعت کا ایک تاریخی کردار ہے، جس سے لوگ واقف ہو چکے ہیں لیکن اس جنوبی حصے میں ابھی تک کوئی واقفیت نہیں۔44 چنانچہ سب سے زیادہ معاندانہ رویہ پریس کانفرنس میں میونخ میں اختیار کیا گیا۔تعداد کی کمی کے لحاظ سے بھی اور جو آئے ، ان کا رویہ بھی شروع میں معاندانہ تھا بلکہ تحقیر آمیز تھا۔پوچھا کہ آپ لوگ کیوں آ گئے ہیں؟ کیا کرنا ہے آپ نے؟ کوئی آپ کی بات نہیں مانے گا ، لغو بات ہے۔آپ ہمارے ملک میں آ کے عیسائیوں کو کچھ سنائیں گے، یہ تو بے تعلق بات ہے۔اس لئے یہاں ہمیں اب ضرورت کوئی نہیں۔یہ رویہ پر لیس کا تھا۔چنانچہ میں نے بھی ان کو جگانے کے لئے پھر اسی زبان میں گفتگو کی۔میں نے کہا: آپ ساری دنیا میں چرچ پھیلا رہے ہیں اور ساری دنیا میں آپ تبلیغ کر رہے ہیں۔آپ کا یہ کیا حق ہے کہ ہمیں 197