تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 193

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 27 ستمبر 1985ء نے بھی بہت اچھی رپورٹنگ کی۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہمسائے بہت اچھے ملے ہیں۔میئر کہیں باہر گئے ہوئے تھے ، اس لئے ان کے نمائندے تشریف لائے تھے۔انہوں نے بہت عمدہ خیالات کا اظہار کیا۔اور جو دوست مہمان تشریف لائے تھے، انہوں نے اتنی دلچپسی شروع کر دی کہ بعض ان میں سے اصرار کے ساتھ ٹھہر گئے کہ ہم شام کی مجلس سوال و جواب میں بھی حصہ لیں گے۔هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ میں صرف ظاہری زمینوں کی فراخی کا ذکر نہیں ہے بلکہ اول طور پر روحانی زمینوں کی فراخی کا ذکر ہے۔دین کو پھیلنے سے روکا جاتا ہے، اس لئے ، بتایا گیا ہے اور تسلی دی گئی ہے کہ جو اللہ کا دین ہو، اس کو پھیلنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ہر روز ا سے نئی وسعتیں عطا ہوتی چلی جاتی ہیں۔جتنے مراکز بھی خدا تعالیٰ نے نئے عطا کئے ہیں، ان میں بھی اصل میں حکمت ہے۔یہ وعدہ ہے کہ ہم تمہاری روحانی زمین کو پھیلانے والے ہیں، اس لئے نئی زمینیں عطا کر رہے ہیں ورنہ ظاہری طور پر مادی طور پر دنیا کی چند زمینیں یا چند مکانات حاصل ہونے سے ہمیں کیا خوشی ہو سکتی ہے۔اصل اس کے پیچھے یہ روح کارفرما ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کو الہاما اللہ تعالیٰ نے وسع مکانک فرما کر یہ بتایا کہ ہم تیرے ماننے والوں میں، تیرے ارادت مندوں میں، تیری پیروی کرنے والوں میں بہت بڑی وسعت دینے والے ہیں، اس کے لئے تیاری کر اور اپنے مکانات کو وسعت دے۔یہ وجہ ہے کہ میں جن خدا تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر کر رہا ہوں اور ان نئی وسعتوں کے ساتھ جو زمینی وسعتیں ، روحانی دینی وسعتیں ساتھ ساتھ ملنی شروع ہو گئی ہیں اور ان کے آثار بڑے نمایاں دکھائے دینے لگے ہیں۔چنانچہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، اس افتتاحی پروگرام میں جو مہمان تشریف لائے ہوئے تھے، ان میں عرب بھی تھے، ان میں یورپین بھی تھے، امریکن بھی اور جرمن بھی ہر قسم کے لوگ تھے۔اور متعدد مہمان ان میں سے ٹھہر گئے اور اصرار کیا ، خود خواہش کی ، مجھے بھی مل کے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کچھ سوالات کریں۔چنانچہ میں نے ان سے کہا: اگر آپ چاہتے ہیں تو بے شک شام تک ٹھہریں۔چنانچہ بڑے خلوص کے ساتھ انہوں نے حصہ لیا۔اور اگر بعد میں ہمارا ایک اور پروگرام نہ ہوتا تو وہ مجلس ختم ہونے میں نہیں آ رہی تھی۔دوستوں کی بہت خواہش تھی کہ ہم اپنے سوالات کریں مگر چونکہ ایک اور جگہ بھی پروگرام تھا، اس لئے بہر حال غالباً ڈیڑھ، دو گھنٹے کے بعد اس مجلس کو ختم کرنا پڑا۔شاید زیادہ وقت تھا، دو گھنٹے کے لگ بھگ تھا۔193