تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 194
خطبہ جمعہ فرمودہ 27 ستمبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم وہاں یہ بات بھی دیکھنے میں آئی کہ اسلام میں جو غیر معمولی دلچسپی ہے، وہ بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔اور اتنی جلدی تائید میں سر ہلنے لگ جاتے ہیں کہ اس سے پہلے مجھے تصور بھی نہیں تھا کہ ایک مجلس میں اتنی جلدی بعض لوگ اپنے خیالات تبدیل کر سکتے ہیں۔اور جماعت احمدیہ کا جہاں تک تعلق ہے، صرف غیر مسلموں میں ہی نہیں، ان مسلمانوں میں بھی بہت تیزی سے دلچسپی بڑھ رہی ہے، جو اس سے پہلے ہم سے متنفر تھے۔اور جو پہلے سوال انہوں نے کئے ان سوالات سے ان کے چہروں کے اثرات سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ خشونت اور نفرت پائی جاتی ہے اور کچھ غصہ پایا جاتا ہے۔لیکن جب میں نے ان کے سوالات کے جوابات دیئے تو چہروں کے تأثر بدلنے شروع ہو گئے۔اور کچھ عرصے کے بعد بہت انہاک پیدا ہو گیا۔آخر پر ان سے جب معذرت کر کے ، اس لئے کہ بعض جرمن دوست بھی تھے، ان سے بھی وعدہ کیا ہوا تھا کہ آپ کے سوالات کے جواب دوں گا، تو جب میں نے دوسری طرف توجہ کی ، پھر بھی وہ آخر وقت تک بیٹھے رہے۔اور صرف یہی نہیں بلکہ دوسرے دن صبح جب ہم باہر جارہے تھے تو وہ پھر پہنچے ہوئے تھے۔میں نے ان کو دیکھ کر معذرت کی کہ میں تو باہر جارہا ہوں۔تو انہوں نے کہا کہ ہم ٹھہرتے ہیں۔چنانچہ ظہر کی نماز میں شامل ہوئے۔ظہر کی نماز کے بعد پھر بیٹھ گئے اور پھر سوالات کئے۔اور آخر پر ان کا تاثر یہ تھا کہ ان کے جو لیڈر تھے، انہوں نے مجھے یہ کہا کہ آپ ہمارے لئے یہ دعا کریں کہ ہم آپ کی جماعت میں جلد شامل ہو جائیں۔اب یہ چوبیس گھنٹے کے اندراندر یہ واقعہ رونما ہوا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی زمین پھیلنے کے لئے تیار بیٹھی ہے۔اور خدا تعالیٰ کے فرشتے اس زمین کو پھیلا رہے ہیں۔تیار بیٹھی کا محاورہ میں نے اس لئے استعمال کیا کہ کچھ اس میں آپ کی کوشش کا بھی دخل ہوگا۔کچھ نہ کچھ آپ کو لازما کرنا پڑے گا ، ہاتھ تو پھیلانے پڑیں گے تاکہ جو وسعتیں ہیں، اس میں کچھ آپ کا بھی حصہ ہو جائے۔اس کے بغیر زمین از خود نہیں پھیلا کرتی۔کچھ معمولی جد و جہد ، کچھ کوشش، کچھ تمنا کا دخل ہوا کرتا ہے، جو بندوں کے اختیار میں ہوتی ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ کو بطور خاص آج کل غیر معمولی تبلیغ کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔اس وقت اگر ستی ہو گئی تو ایسے وقت بار بار قوموں کو نصیب نہیں ہوا کرتے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، ہر طرف خدا کے فضل سے تیزی کے ساتھ جماعت احمدیہ کے اندر دلچسپی پیدا ہورہی ہے اور رجحان بڑھتا چلا جارہا ہے۔کوئی جگہ ایسی نہیں ہے، جہاں میں گیا ہوں اور وہاں بیعتیں نہ ہوئی ہوں۔مختلف ممالک کے لوگ ہیں، جو تھوڑی دیر کے اندر جماعت احمدیہ سے رابطہ پیدا کرتے ہی بیعتوں پر تیار ہو جاتے ہیں۔اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑے بڑے مخلص پیدا ہوتے ہیں۔194