تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 174 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 174

خطبہ جمعہ فرمودہ 20 ستمبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم مفسرین نے کیا لکھا؟ فقہ کے ماہرین نے کیا لکھا؟ اور جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں کیا کیا کچھ ہے؟ اور ان علماء کے پاس جو ہماری مخالفت کرتے ہیں، کیا دلائل ہیں؟ اور ہم اس کا کیا جواب دیتے ہیں؟ علم کا اتنا وسیع ؟ میدان ہے۔اور پھر اسلام کے دشمن مذاہب کیا کہتے ہیں؟ اور ان سے کیسے نمٹ سکتے ہیں؟ یہ تو لگتا ہے، ایک لامتناہی سمندر ہے۔عام آدمی کی طبیعت سوچتی ہے تو گھبرا جاتی ہے کہ یہ تو میرے بس کی بات نظر نہیں آتی۔لیکن تعلق باللہ میں یہ ایک عجیب بات ہے کہ جس لمحے آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ میں خدا کا ہونا چاہتا ہوں، اسی لمحے خدا آپ کا ہو جاتا ہے۔کوئی روک حائل نہیں ہوتی، کوئی پردہ بیچ میں حائل نہیں ہوتا۔اور جب کسی کو خدامل جاتا ہے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کے اندر ایک عظیم انقلاب بر پا نہ ہو، اس کی شخصیت میں ایک تبدیلی رونما نہ ہو جائے۔اور آج اس تبدیلی کی ضرورت ہے۔آج ضرورت ہے کہ ہم ایسے نوجوان پیدا کریں، جن کے اندر دنیا فرق محسوس کرنے لگے۔ان کی بات میں وزن آجائے ، ان کی اداؤں میں وقار پیدا ہو جائے۔جو ان سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے، وہ محسوس کر رہا ہو کہ میں کسی ایسی ہستی سے بات کر رہا ہوں، جس کا تعلق بڑے لوگوں سے ہے۔شروع میں تو اس کو بڑے لوگ نظر آئیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ تو آپ کے پس منظر میں ہوگا۔کیونکہ جس طرح بڑے آدمی کے ساتھ رہ کر ، مشاہوں کی مصاحبت میں پھر کر انسان کے اندر ایک نئی ادا پیدا ہو جاتی ہے اور دیکھنے والا محسوس کرتا ہے کہ اونچی مجالس سے آیا ہے۔تو جب خدا سے تعلق پیدا ہوتو کیسے کوئی محسوس نہیں کرے گا کہ بہت اونچی مجالس کا رہنے والا انسان ہے۔اس کے آداب، اس کی گفتگو، اس کا سلیقہ، اس میں کوئی وزن ہے، کوئی وقار ہے، ایک یقین ہے، ایک خود اعتمادی ہے۔اور یہ چیزیں ہیں، جنہوں نے دنیا فتح کرنی ہے۔پھر علم بھی خدا خود عطا فرماتا ہے اور ایسے ایسے دلائل پھر سکھاتا چلا جاتا ہے کہ ایک عام آدمی سے ویسے توقع نہیں ہوسکتی۔چنانچہ میرا یہ بھی تجربہ ہے کہ وہ احمدی، جو خالصہ اللہ للہ کی محبت میں دعوت الی اللہ کا کام شروع کر دیتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ خدا ہماری مدد کرے گا، وہ جب اپنی تبلیغی رپورٹیں بھیجتے ہیں تو بعض دفعہ میں حیرت میں مبتلا ہوں کہ یہ سکتے ان کو کس طرح سمجھ آگئے۔کوئی تعلیم نہیں لیکن بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دشمن نے ایک سوال اٹھایا، جو بڑی عیاری سے اٹھایا گیا اور اس پر میرا دل چاہتا تھا کہ کاش یہ جواب دیتا۔اور اگلا فقرہ ہی اس کا وہ ہوتا تھا کہ پھر خدا نے میرے دل میں یہ بات ڈالی، پھر میں نے یہ جواب دیا اور مسلسل اس طرح کے مضمون چلتے چلے جاتے ہیں۔میں ان لوگوں کو جانتا ہوں ، ان کی علمی حالت کا مجھے پتہ ہے۔ناممکن ہے ان کے لئے وہ باتیں کرنا، جب تک ان کو خدا نہ بتا رہا ہو۔174