تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 175 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 175

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 20 ستمبر 1985ء بنیادی بات علم نہیں ہے، بنیادی بات اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا پیار ہے۔اس لیئے آپ اس کی طرف توجہ کریں اور بے دھڑک ہو کر اس میدان میں کود پڑیں۔سارا جر منی آپ کے لئے فتح کرنے کے لئے کھلا پڑا ہے اور یہاں بھی وہ رو چلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔جو دوست یہاں پرسوں کی مجلس میں تھے، انہوں نے دیکھا ہوگا کہ بعض جرمن نو جوان، جو بڑے مخلص احمدی ہیں، وہ اپنے کچھ ساتھیوں کو لے کر آئے تھے۔کچھ اور دوسرے دوست بھی موجود تھے۔صاف اللہ کی تقدیر کا ہاتھ نظر آتا ہے کہ تھوڑی دیر کے اندر ہی ان کی کیفیت بدل گئی۔ان کی دلچسپی کا انداز بدل گیا اور بڑی حکمت کے ساتھ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہم احمدیت کے قائل ہوتے چلے جارہے ہیں۔چنانچہ عبد اللہ صاحب نے مجھے بتایا کہ ایک نوجوان، جو بڑا مضبوط اور توانائی سے بھر پور ہے، اپنے جسم کے لحاظ سے بھی مضبوط اور جوان ہے اور ذہنی افتادلحاظ سے، اپنی بات پہ قائم اور سمجھ کر چلنے والا ، وہ عارضی طور پر صرف ایک رات کے لئے آیا تھا، دوسرے دن بھی ٹھہر گیا۔اور پھر عبداللہ صاحب سے اس نے کہا کہ میری نوکری کا بھی سوال ہے، جو شاید نکل جائے اور میں واپس نہ جاؤں مگر کوئی پرواہ نہیں، اب میرا جانے کو دل نہیں چاہتا۔اور وہ ٹھہر گیا۔تو حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح خدا تعالی آنا فانا ان قوموں کے دل بھی بدل رہا ہے۔وہاں اخباری نمائندوں سے ملاقات ہوئی ہے تو شروع میں ان کے چہرے اور تھے ، ان کا رویہ اور تھا، اسلام کے خلاف تشدد پایا جاتا تھا اور بعض اعتراض تو بڑی سختی سے کئے۔لیکن جب خدا تعالٰی نے مجھے جواب دینے کی توفیق عطا فرمائی تو دیکھتے ہی دیکھتے ان کے چہرے نرم پڑ گئے اور ان کی باتوں کا رخ بدل گیا۔وہ ساری ویڈیوریکارڈڈ چیز ہے اور جرمن میں ہمارے ہیوبش صاحب اس کا ترجمہ کر رہے تھے۔ان کو بھی خدا تعالیٰ نے اس وقت ایسی توفیق عطا فرمائی۔بیماری کی وجہ سے وہ پہلے ترجمے میں کچھ کمزور ہو گئے تھے لیکن اس وقت تو ایسا چلے ہیں، جس طرح فرفر ایک دریا بہہ رہا ہو۔جب وہ جرمن زبان میں ترجمہ کرتے تھے تو بہت ہی گہرا اثر ان کی گفتگو کا دوسروں کے چہروں پر نظر آ رہا ہوتا تھا۔یہاں تک کہ عبداللہ صاحب نے مجھے بتایا کہ وہاں کے پریس کا نمائندہ اپنے ساتھی کو کہ رہا تھا کہ اب یہاں آدمی سوال کیا کرے؟ ہر سوال کا جواب ایسا آجاتا ہے کہ منہ بند ہو جاتا ہے۔مغربی پریس سے یہ تبصرہ جو ہے، یہ معمولی بات نہیں۔بڑے آزاد منش لوگ ہیں، خصوصاً اسلام پر حملہ کرنے میں تو بڑی دلیری دکھاتے ہیں۔پھر ایشیائی ملک کا ایک آدمی، جو پاکستان سے پھر آیا ہو، اس کے متعلق تو ان ان کے رویے ہی بالکل بدل جاتے ہیں۔اور وہی رویہ تھا، جو شروع شروع میں نظر آ رہا تھا۔175