تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 169
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد مصف خطبہ جمعہ فرمودہ 20 ستمبر 1985ء یہ بھی جماعت پر ایک موسوی دور ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 20 ستمبر 1985ء تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور رحمہ اللہ نے فرمایا:۔"گذشتہ خطبہ جمعہ میں نے Nunspeet ہالینڈ سے دیا تھا۔اور اس میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو قرآن کریم میں مومنین سے قطعی وعدہ فرمایا ہے کہ تم اگر میری خاطر دکھ اٹھاؤ گے تو میں تمہاری زمینیں وسیع کرتا چلا جاؤں گا یعنی تمہیں اپنی زمین میں لے آؤں گا۔اور اللہ کی زمین وسیع ہے، ان معنوں میں وہ وعدہ ہے۔اور یہ بھی بشارت ہے کہ اس دنیا میں بھی تمہیں نقد و نقد انعام ملیں گے اور آخری دنیا کے پھر انعام تو مقدر ہیں ہی۔اور یہ بھی وعدہ ہے کہ خدا کے انعامات کا سلسلہ لامتناہی ہوا کرتا ہے۔وہ کسی ایک جگہ جا کر ٹھہر نہیں جاتا۔تو جن کو خدا تعالیٰ کے وعدے اس دنیا میں ہی پورے ہوتے دکھائی دینے لگیں، ان کے لئے دوہری خوشخبری یہ ہے کہ آخرت کے وعدوں پر بھی پہلے سے بڑھ کر ایمان پیدا ہو جاتا ہے۔جن کو اس دنیا میں کوئی خوشخبریاں پوری ہوتی دکھائی نہ دیں، ان کے لئے آخرت کی امیدیں بھی موہوم ہیں۔سوائے اس کے کہ ایک امید لگائے بیٹھے ہیں، اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔تبھی قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ خصوصاً ابتلاء کے دور میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے یہ پیغام لے کر آتے ہیں کہ: نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ ( حم السجدة: 32) ہم تمہارے ساتھ ہیں، تمہارے دوست بن کے رہیں گے، اس دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔یہ بتانے کے لئے کہ آخرت کا وعدہ محض کوئی فرضی قصہ نہیں ہے، اس لئے خدا نے زیادہ یقین پیدا کرنے کے لئے ، زیادہ ایمان پیدا کرنے کے لئے ہمیں اس دنیا میں یہ حکم دے کر بھیجا ہے کہ ہم اب تمہارے ساتھ رہا کریں گے۔چنانچہ ایک دائی رفاقت فرشتوں کی نصیب ہو جاتی ہے اور ہر منزل پر ہر موڑ پران کا قرب محسوس ہوتا ہے۔جماعت احمدیہ آج کل جس ابتلا کے دور سے گزر رہی ہے، بعض لوگوں کی نظر اس ابتلاء پر ہے اور بے قرار رہتے ہیں کہ کب یہ دور ختم ہوگا۔لیکن اللہ کے انعامات پر بھی تو نظر کرنی چاہئے وہ کس کثرت 169