تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 168
خلاصه خطاب فرمودہ 18 ستمبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم دوسری وجہ تمام یورپین ممالک میں سے جرمنی میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جرمن قوم بے سکونی میں مبتلا ہے اور ذہنی سکون کی متلاشی ہے۔ان کے لئے زیادہ سے زیادہ اسلام کا مطالعہ کرنے کے مواقع دستیاب کئے جائیں“۔حضور نے جرمن قوم کی بے سکونی کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وو دونوں ( عظیم جنگوں میں نہ صرف یہ کہ جرمن قوم نے سب سے زیادہ تکلیف اٹھائی بلکہ ان جنگوں کے شروع کرنے کا تکلیف دہ احساس بھی شدت سے پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔اور آج اسلام کے علاوہ کوئی اور مذہب جرمن قوم کی اس ذہنی خلش کو دور نہیں کر سکتا اور نہ ہی ان کے احساس ندامت کو ختم کر کے ان کو نئی زندگی دے سکتا ہے۔فرمایا کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ جرمن قوم ایک بہادر اور غیور قوم ہے۔انہیں کوئی کھوکھلا فلسفہ مطمئن نہیں کر سکتا۔اسلام ان کے سامنے ایسے اصول پیش کرتا ہے، جنہیں اپنا کر وہ پرسکون زندگی بسر کر سکتے ہیں۔یا درکھیں کہ جن کے دل پر سکون نہیں ہوتے ، وہ کبھی امن قائم نہیں کر سکتے۔مختلف مذاہب میں ذہنی سکون کے حصول کے مختلف طریقے بتائے گئے ہیں۔لیکن دراصل امن اپنے پیدا کرنے والے کے ساتھ صحیح تعلق قائم کر کے ہی مل سکتا ہے۔ایسے لوگ جب سکون حاصل کر لیتے ہیں تو وہ اس سکون کو صرف اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ دوسروں کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں۔جب انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہو جاتا ہے، جو زندہ خدا ہے تو زندگی میں ایک ایسی تبدیلی آتی ہے کہ انسان خود بخود پر سکون ہو جاتا ہے اور دنیاوی تکالیف کو خاطر میں نہیں لاتا۔حضرت عیسی نے کیوں اتنی تکالیف برداشت کیں؟ کیونکہ خدا ان کے ساتھ تھا“۔فرمایا:۔" آج مذہب کے نام پر ہمیں بھی تکلیفیں دی جارہی ہیں۔کیونکہ روز اول سے ماننے والے تکالیف برداشت کرتے آئے ہیں۔احمدی اس سے مستی نہیں۔احمدیوں کو پاکستان میں کلمہ پڑھنے پر مار پڑ رہی ہے اور ان پر طرح طرح کی پابندیاں ہیں۔بظاہر یوں لگتا ہے کہ ان کا امن ختم ہو گیا ہے لیکن وہ تو بہت خوش ہیں اور خوشی خوشی مار کھا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکالیف اٹھانے پر فخر کرتے ہیں۔حضور نے مزید فرمایا:۔یا درکھیں ہم جس امن کا پیغام لے کر آپ کے پاس آئے ہیں، وہ آپ کو تکلیف نہیں دے گا بلکہ آپ کو اپنی نظروں، دوسرے انسانوں کی نظروں میں اور آپ کے پیدا کرنے والے خدا کی نظروں میں بہت اونچا مقام عطا کر دے گا“۔مطبوعہ ہفت روزہ النصر 27 ستمبر 1985ء) 168