تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 167
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہی خلاصه خطاب فرمودہ 18 ستمبر 1985ء امن اپنے پیدا کرنے والے کے ساتھ صحیح تعلق قائم کر کے ہی مل سکتا ہے خطاب فرمودہ 18 ستمبر 1985ء بر موقع افتتاح بیت النصر کولون جرمنی سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔سورۃ فاتحہ اپنے معنوں کے لحاظ سے بہت وسیع اور گہری ہے، جو مسلم دنیا میں کثرت سے پڑھی جاتی ہے۔اور خاص طور پر ایسے موقع پر پڑھی جاتی ہے، جب انسان نے کوئی کامیابی حاصل کی ہو۔انسان کو یہ یاد دلانے کے لئے پڑھی جاتی ہے کہ وہ بہت کمزور ہے، تمام تعریف صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ کوئی معرکہ سر انجام دیتا ہے تو اپنے اس کارنامے پر بے انتہا فخر کرتا ہے اور اس کا میابی کو اپنی قوت بازو کا نتیجہ بجھتا ہے۔اس سورۃ میں یہ بتایا گیا ہے کہ تمام انسانی کوششیں صرف اسی کے فضل سے بار آور ہوتی ہیں۔اور ہماری کوششیں بہت حقیر ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ ہی تعریف کے قابل ہے۔اور اس کو خوش کر کے تم بھی تعریف کے مستحق بن سکتے ہو۔پھر فرمایا:۔آج ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے یہاں کے احمدیوں کو جرمنی میں ایک اور نیا سنٹر کھولنے کی توفیق دی ہے۔یہ تیسرا بڑا سنٹر ہے۔فرینکفورٹ اور ہمبرگ میں دو مراکز پہلے سے موجود ہیں۔جماعت احمد یہ صرف جرمنی میں ہی نہیں بلکہ تمام دنیا میں نئے مراکز قائم کر رہی ہے۔یہاں تک کہ پولینڈ، ہنگری ، روس میں بھی جماعت احمدیہ کا وجود ہے۔آپ لوگوں کو اسلام کے متعلق غلط تاثر دیا گیا ہے ورنہ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے اور ہم آپ کے ملک میں امن کا پیغام ہی لے کر آئے ہیں۔آپ کو اسلام کے پیغام سے کسی قسم کا خطرہ نہیں۔اسلام تو نام ہی امن کا ہے۔اگر اسلام میں نفرت ، دشمنی اور ظلم کے عصر شامل ہو جائیں تو وہ اپنی شخصیت کھو دے گا۔اسلام محبت ، امن اور انسانوں میں باہمی اخوت کا پیغام ہے۔جرمنی میں تیسر امر کز کھولنے کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پہلی وجہ تو یہ کہ جرمنی میں قبول کرنے والوں کے لئے جو بہت مخلص اور کام کرنے والے ہیں، سہولت مہیا کی جائے تا کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق ڈھال سکیں۔167