تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 120 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 120

خلاصه خطاب فرمودہ 27 جولائی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم تھا۔اس کے برعکس موجودہ مغربی تہذیب عیسائیت سے غیر عیسائیت کی طرف جانے کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔اور دن بدن یہ لوگ عیسائیت سے دور سے دور تر جارہے ہیں۔اور موجودہ مغربی تہذیب سیاسی غلبہ اور سائنسی علوم میں ترقی کے نتیجہ میں معرض وجود میں آئی، نہ کہ عیسائیت کی وجہ سے۔لیکن بد قسمتی سے بہت سے مسلمان اس بات کو سمجھ نہ سکے اور انہوں نے اپنے معاشرہ کی کمزوریوں کو اسلام کی طرف منسوب کر دیا۔۔اور اس طرح وہ اسلامی تعلیم سے بیزار ہو کر مغربی تہذیب کی طرف مائل ہونے لگے۔اس کے بالمقابل مسلمانوں کا دوسرا طبقہ مغربی تہذیب کی ہر بات کی مخالفت کرنے لگا اور اچھی باتوں سے بھی نفرت کرنے لگا۔اور یہ لوگ محب وطن کہلانے لگے۔یہ وہ لوگ تھے، جنہوں نے مذہب کے نام پر اپنی مستورات کو اور بھی پسماندگی کی طرف دھکیل دیا۔ایسے لوگ اسلام، ہندومت اور سکھ مت ، سب مذاہب میں پائے جاتے تھے۔چنانچہ 19 ویں صدی کے آخر میں بہت سے ایسے مصنفین ملتے ہیں، جنہوں نے بالخصوص طبقہ نسواں کی پسماندگی کا نقشہ ایسے رنگ میں پیش کیا ہے کہ پڑھنے والا چیخ اٹھتا ہے اور اس پسماندگی کا ذمہ دار ہمیشہ مذہب کو ٹھہرایا گیا۔یہی وجہ ہے کہ لوگ مذہب سے بیزار ہونے لگے اور مغربی تہذیب کے دلدادہ ہو گئے۔ان حالات میں حضرت مسیح موعود کے بابرکت وجود کی شکل میں ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے قادیان نامی گاؤں سے ایک نئی روشنی نمودار ہوئی۔آپ کا سب سے بڑا معجزہ، وہ پاکیزہ اورحکیمانہ تعلیم ہے، جو آپ نے دنیا کے سامنے پیش کی۔جو کہ اسلام کی ہی تعلیم تھی لیکن اسے غلط طور پر سمجھا اور پیش کیا گیا۔حضرت مسیح موعود نے اسلامی تعلیم کی حکمت اور اس کا فلسفہ اس رنگ میں تفصیل سے بیان کیا کہ وہی مستورات ، جو پہلے مذہب سے متنفر تھیں، وہ اسلام کی تعلیم پر خوشی سے عمل کرنے لگیں۔انہوں نے جائز باتوں کو اختیار کیا اور نا جائز باتوں سے اجتناب کر لیا۔اس کے برعکس غیر احمدی علماء کا رویہ یہ تھا کہ وہ اسلامی احکام کی حکمت بتائے بغیر صرف یہ کہتے تھے کہ یہ حکم ہے ، اگر عمل نہیں کرو گے تو جہنم میں جاؤ گے۔اور اگر ہماری بات نہیں مانو گے تو ہم تمہارے خلاف معاشرہ میں ایسی نفرت پیدا کردیں گے کہ لوگ تمہارے گھروں اور تمہاری املاک کو تباہ کر دیں گے۔حضرت مسیح موعود کی کتاب ”اسلامی اصول کی فلاسفی کا یہ اثر ہوا کہ مغربی دنیا پہلی مرتبہ اسلام کی تعلیم کو اخلاقی نقطہ نگاہ سے سوچنے اور مجھنے لگی۔حضرت مسیح موعود کا یہ لیکچرا ہور میں جس کا نفرنس میں پڑھا گیا، اس میں تمام مذاہب کے نمائندوں نے اپنے اپنے مذاہب کا نقطہ نگاہ پیش کیا۔لیکن حضرت اقدس کے 120