تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 107
خطبہ جمعہ فرمودہ 19 جولائی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک محاورہ عرب میں اسی لئے استعمال ہوتا ہے۔ہم جاہلوں کی قوم میں سے نہیں ہیں، جب یہ کہتے ہیں عرب تو مراد یہ نہیں کہ ہم اس قبیلے میں سے نہیں ہیں، جو جاہل ہے یا ظاہری لحاظ سے اس قوم میں سے نہیں ہیں۔یہ عربی محاورہ ہے، جب قوم کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو مراد یہ ہے، وہ لوگ، جو اس چیز کے لیے مخصوص ہو چکے ہیں، اس زمرے میں ہم شمار نہیں ہو سکتے ، جس زمرے میں یہ بد بخت لوگ ہیں۔تو القوم الکافرین فرمایا گیا ہے۔یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ کسی کا فر کونعوذ باللہ خدا ہدایت ہی نہیں دیتا۔اگر ہدایت ہی نہیں دیتا تو اس مصیبت کو کھڑا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔خواہ مخواہ کا ہنگامہ برپا کیا، فساد ہوئے اور نتیجہ یہ کہ ہدایت ملنی کسی کو نہیں۔اس لیے غلط ترجمہ ہے، اگر کوئی یہ ترجمہ کرتا ہے۔القوم الکافرین سے خاص معنی مراد ہے۔وہ لوگ جن کا پیشہ بن گیا ہے، مخالفت کرنا، وہ لوگ جن کے مقدر میں انکار ہے۔وہ ہمیشہ ہر حال میں تمام انبیاء کے مخاطب میں ضرور کچھ نہ کچھ لوگ رہتے ہیں، جن کو آئمة الكفر فرمایا گیا ہے دوسری جگہ اور آئمة التکفیر بھی کہا جاتا ہے۔تو القوم الکافرین سے مراد یہ ہے کہ تمہارے مقابلہ پر ایک جماعت لازماً ایسے شدید مخالفین کی رہے گی، جن کو تمہارا حسن خلق تبدیل نہیں کر سکے گا۔اور کوئی بھی تم طریق کار اختیار کرو، وہ تبلیغ ان پر اثر نہیں کرے گی۔لیکن ان کی وجہ سے باقی قوم کومحروم نہیں ہونے دیا جائے گا۔اس لیے ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ باوجود ایسے شدید ٹولے کو اپنے سامنے صف آراء دیکھتے ہوئے ، ایسے شدید معاندین کو اپنے سامنے ہر قسم کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر ہر قسم کی ایذاء دہی پر آمادہ پاتے ہوئے تم جب صف آراء دیکھو گے تو حوصلہ نہیں ہارنا۔ہمیں پتہ ہے کہ ایسے لوگ موجود ہیں، ہمیں علم ہے خدا نے ہدایت دینی ہوتی ہے۔خدا جانتا ہے کہ ان لوگوں کو وہ ہدایت نہیں دے گا۔اس کے باوجود یہ حکم ہے کہ تم نے تبلیغ سے باز نہیں آنا۔کیونکہ قوم کی جو دوسری اکثریت ہے بھاری، جس کو القوم الکافرین نہیں کہا جا سکتا، نادان ہیں، لاعلم ہیں، جاہل ہیں، ان کو ہدایت نصیب ہو جائے گی۔پس اس لئے یہ مضمون اس شکل میں مکمل ہوتا ہے۔تبلیغ میں حسن خلق کو بھی بہت دخل ہے اور جتنا آپ کے دل میں نرمی ہوگی ، بنی نوع انسان کی ہمدردی ہوگی ، سچائی سے پیار ہوگا، تقویٰ ہوگا، خدا کا خوف ہو گا دل میں اور حسن خلق اس کے علاوہ بھی ہوگا۔اگر چہ انہی چیزوں سے پیدا ہوتا ہے لیکن عام بنی نوع انسان نہ تقویٰ کو دیکھ سکتے ہیں ، نہ خوف خدا کو دیکھ سکتے ہیں دوسرے رنگ میں، نہ آپ کے دل کے اندر جھانک کر آپ کی خوبیوں کو دیکھ سکتے ہیں لیکن انہی جڑوں میں سے کچھ شاخیں پھوٹتی ہیں، جس کو عرف عام میں اخلاق کہتے ہیں۔اور تقویٰ کی بنیاد پر جو اخلاق قائم ہوتے ہیں، وہ عام دنیا کے اخلاق سے بہت بہتر ہوتے ہیں، بہت گہرے اور بہت مستقل 107