تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 105 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 105

خطبہ جمعہ فرمودہ 19 جولائی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہی گے۔وہ کسی نگری میں چلا گیا اور پکڑا گیا۔اور تنبیہ چونکہ طوطی کی طرف سے آئی تھی ، اس لیے طوطی پھر اڑ کر وہاں پہنچی اور جب وہ پنجرہ میں قید تھا تو پنجابی کی کہاوت ہے کہ وہ دیوار کے کنارے بیٹھ کر یہ گیت گانے لگی کہ طوطیا منمونیا میں آکھ رہی میں ویکھ رہی کہ ایس نگری نہ جا۔ایس نگری دے لوگ برے تے لیندے کھائیاں پا۔اے طوطے ! میں تجھے کہ بھٹی، تجھے بار بار تنبیہ کی کہ ایس نگری نہ جا، اس بستی میں نہ جانا، اس نگری کے لوگ برے ہیں ، یہ پھائیاں ڈال لیا کرتے ہیں، یہ پھندے ڈال لیا کرتے ہیں اور پھنسا لیا کرتے ہیں۔اور اسی طرح ایک شاعر کہتا ہے کہ زنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں کے طوطے کا پھنسنا تو ہی توفی کے نتیجہ میں تھا لیکن خدا کے انبیاء جب ان پھندوں میں پھنستے ہیں تو بیوقوفی کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اس علم کے باوجود کہ ہم جہاں جائیں گے، وہاں ضرور ہم سے یہ سلوک کیا جائے گا، دیکھتے ہوئے ، موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے ، وہ قدم آگے بڑھاتے ہیں۔اس لیے ان کو کوئی بیوقوف نہیں کہہ سکتا۔اگر کوئی احمدی یہ کہتا ہے اور مربی کو چھیڑتا ہے کہ دیکھا ہم نہیں کہتے تھے کہ فساد ہوگا تو اس کو پھر مذہب کی حقیقت کا علم ہی کوئی نہیں۔وہ تو پھر گڑیوں کی کہانیوں میں بسنے والا شخص ہے۔قصص انبیاء سے اس کو کوئی واقفیت نہیں۔مگر جب ہم مذہب کی دنیا میں سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کرتے ہیں تو ہم قصص انبیاء کی باتیں کر رہے ہیں۔یہ طوطا مینا کے قصے نہیں سنار ہے۔اور قصص انبیاء کا مضمون تو یہی ہے کہ تبلیغ کے ساتھ لازماً ایک فساد لگا ہوا ہے۔اور لازما اس فساد کی ذمہ داری دشمن پر عائد ہوتی ہے، تم پر عائد نہیں ہوتی۔اگر تم تبلیغ کو اس طرح کرو گے، جس طرح کہ تبلیغ کرنے کا حق ہے، جس طرح کہ گذشتہ زمانوں میں انبیاء کرتے چلے آئے اور جس طرح سب انبیاء سے بڑھ کر حکمت اور پیار اور بالغ نظری کے ساتھ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کی۔پس تبلیغ ہمیں کرنی ہے، ہم تو مجبور ہیں۔اور ساتھ ہی ایک اور عظیم الشان بات اس آیت میں بیان فرمائی گئی۔وہ یہ ہے کہ ان دو شرطوں کو پورا کرنے والے تم بنو تبلیغ کرو اور ضرور کرو۔تبلیغ اس طرح کرو، جس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ کرتے ہیں:۔وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اللہ تعالیٰ تو ہر شخص جو یہ دو شرطیں پوری کرتا ہے یا ہر قوم جو یہ دوشرطیں پوری کرتی ہے، اللہ تعالیٰ رماتا ہے کہ میں ذمہ دار ہوں، اس بات کا، میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہارا دنیا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکے 105