تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 784 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 784

اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 23 اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد هفتم - آپ بس رہے ہیں، یہاں بہت بڑی تعداد ایسی ہے، جو جمعہ پر حاضر ہی نہیں ہوسکتی۔اور کچھ جو جمعہ پر آتے ہیں، مرد یا خواتین ان کے بچے ضروری نہیں کہ ساتھ آسکیں۔اس لئے خلا کے احتمالات زیادہ ہیں، نسبت اس کے کہ یہ یقین کیا جائے کہ سب تک پیغام پہنچ رہے ہیں۔اس لئے ایسے اہم مضامین، جن کا جماعت کی تربیت کے ساتھ یا ان کے بچوں کے مستقبل کے ساتھ گہرا تعلق ہو، ان کو زیادہ احتیاط کے ساتھ ، زیادہ محنت کے ساتھ احباب جماعت تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس لئے جہاں اجتماعی انتظامات ہیں، ان میں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ کتنے دوست تشریف لا سکے؟ جو تشریف لائے ، ان سے مل کے یہ طے کرنا چاہئے کہ آپ اپنے بچوں کو کس طرح سنائیں گے؟ جو نہیں آسکے، ان تک پہنچانے کا انتظام۔اگر یہ ان خطبات کے علاوہ عموماً بھی جماعت ایسا انتظام کرے اور اس توجہ کے ساتھ یہ انتظام کرے تو اس سے بالعموم ساری دنیا کی جماعت کو بہت سے فوائد پہنچیں گے۔خطبات ایک ایسا ذریعہ ہے، جن کے ذریعے ساری دنیا میں خواہ کسی ملک سے تعلق رکھنے والی جماعتیں ہوں، ان میں یک جہتی اور یک سوئی پیدا ہو سکتی ہے۔جماعت احمدیہ کے مقاصد میں ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ اسلام کو عالمی بنایا جائے، تمام عالم کے دوسرے مذاہب پر اس کو غالب کیا جائے اور ایک اسلامی مزاج ساری دنیا میں پیدا کیا جائے۔اس ایک مزاج کو پیدا کرنے کے لئے خلافت سے ساری جماعتوں کی وابستگی سب سے بڑا ذریعہ ہے۔جو دنیا میں کسی اور مذہبی جماعت کو اس طرح حاصل نہیں۔اور پھر ہر ہفتے ایک ہی قسم کے مزاج کو دنیا میں پیدا کرنے کی خاطر ایک ہی خطبہ کو ہر جگہ پھیلانا اور ایسے خطبے کو پھیلانا ، جس کا سنے والا یہ سمجھتا ہو کہ میرا اس بیان کرنے والے سے ایک ایسا گہرا روحانی تعلق ہے کہ جو باتیں بھی کہی جارہی ہیں، میں عہد کر چکا ہوں کہ میں انہیں توجہ سے سنوں گا اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔یہ بات بھی دنیا میں کسی اور مذہبی نظام کو حاصل نہیں۔اس لئے اگر اس دنیا کی وحدت کسی جماعت سے وابستہ ہے تو وہ جماعت احمد یہ ہی ہے۔لیکن جماعت احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے جو نظام مہیا فرما دیا ہے، جو انتظامات مکمل کر دیئے ہیں، اگر خود یہ جماعت اس سے استفادہ نہ کرے تو پھر دنیا کی وحدت تو در کنار، اپنی وحدت کو بھی برقرار نہیں رکھ سکے گی۔اور میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ بسا اوقات اس کمی کی وجہ سے مختلف جماعتوں کے مزاج مختلف ہونے لگتے ہیں۔جہاں با قاعدگی سے خطبات پہنچانے کا انتظام نہیں، وہاں کئی قسم کے ایسے خیالات، کئی قسم کے ایسے تو ہمات دلوں میں پیدا ہوتے رہتے ہیں، جن کا ساتھ ساتھ علاج نہیں ہو رہا ہوتا۔اور وہاں مختلف مزاج میں جماعتیں 784