تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 783 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 783

تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 123اکتوبر 1987ء اگر اپنی نسلوں کو بچانا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے آپ کو بچائیں خطبہ جمعہ فرمودہ 23 اکتوبر 1987ء سفر کے دوران، جس کا آغاز کینیڈا سے ہوا، اگر چہ وہاں ایک دو دن ہی ٹھہرا اور بعد میں پھر امریکہ آیا اور یہاں تقریباً یہ سفر نصف تک پہنچ چکا ہے۔اس تمام سفر کے دوران جہاں جہاں بھی جانے کا موقع ملا، عموماً احباب جماعت نے ایک سوال بڑی شدت کے ساتھ اٹھایا کہ جس ملک میں یا جن ملکوں میں ہم رہ رہے ہیں، یہاں کا معاشرہ اتنا گندہ ہو چکا ہے اور فضا اتنی زہریلی ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل سے متعلق فکر ہے۔اس لئے ہمیں کوئی ایسی ترکیب بتائیں، جس کے نتیجے میں، جس پر عمل کرنے سے ہم آئندہ اپنے بچوں کے بارے میں مطمئن ہوسکیں کہ یہ اسلامی اقدار کے ساتھ پلیں گے، ساتھ جوان ہوں گے اور کسی طرح بھی یہ غیروں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔کینیڈا میں جو مجلس سوال و جواب تھی، اس میں بھی میں نے اس سوال کا جواب دیا۔اور بعد میں خصوصیت کے ساتھ واشنگٹن میں بچوں کے اجلاس میں بھی میں نے اس مضمون کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔چونکہ یہ سوال عام طور پر اٹھایا جارہا ہے اور اکثر ذہنوں کو بے چین کر رہا ہے، اس لئے مناسب ہوگا کہ ان دونوں جوابوں کی اکٹھی ایک کیسٹ تیار کر لی جائے اور چونکہ اس خطبے میں بھی میں اسی کے ایک اور پہلو پر گفتگو کروں گا، اس لئے اس کو بھی ساتھ شامل کر لیا جائے اور تمام امریکہ کی جماعتوں میں اس احتیاط کے ساتھ ان کیسٹس کو بھجوایا جائے کہ خلا نہ رہ جائے۔اگر چہ کیسٹ کا نظام اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ دو تین سالوں میں کافی مضبوط ہو چکا ہے اور تقویت پاچکا ہے۔لیکن جب بھی میں نے تفصیلی جائزہ لیا ہے تو بہت سے خلاضرور دکھائی دیتے ہیں۔اور یہ کہنا درست نہیں کہ کسی ملک کی ہر جماعت میں باقاعدگی سے کیسٹس پہنچ رہے ہیں اور اس جماعت کے ہر فرد تک ان کی رسائی ہے یا ہر فرد کو ان تک رسائی ہے۔یہ نظام بھی ابھی نامکمل ہے کہ سنائی کیسے جائے؟ اگر اکٹھا جماعت کو ٹیسٹس سنانے کا انتظام نہ ہو، جس میں خطبات ہوں یا خصوصی پیغامات ہوں تو بسا اوقات بہت سے خاندان ایسے رہ جاتے ہیں، جو اپنے طور پر تو سن ہی نہیں سکتے۔علاوہ ازیں بھی اگر جمعہ پر بھی یہ انتظام کیا جائے تو آپ جانتے ہیں کہ جن ملکوں میں 783