تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 678 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 678

خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء قسط نمبر 06 تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم حضور نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے فرمایا:۔”میرے دورے کے علاوہ مرکزی دورہ جات کے بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی عظیم الشان نتائج پیدا ہوئے ہیں۔اور خدا تعالیٰ نے ان سب نمائندوں کی جو حضرت بانی سلسلہ کے نمائندے ہیں ، ان کی بھی اسی طرح تائید فرمائی ہے۔ان کامیاب دوروں کا خلاصہ یہ ہے کہ چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل اعلیٰ کو امریکہ، انڈونیشیا، سنگا پور اور برما کے دورے کی توفیق ملی۔مبارک احمد ساقی ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن کو ناروے، ڈنمارک، سویڈن، نائیجیریا، غانا، زائرے، آئیوری کوسٹ اور لائبیریا کے دورے کی توفیق ملی۔شجر احمد فاروقی مرکزی آڈیٹر کو امریکہ، کینیڈا، مغربی جرمنی، ہالینڈ ، سوئٹزرلینڈ، بیلجیئم فرانس کے دورے کی توفیق ملی۔عطاء اللہ صاحب کلیم کو سورینام، گیانا، ٹرینیڈاڈ محمود احمد صاحب صدر خدام الاحمدیہ کو ہالینڈ ، مغربی جرمنی، امریکہ۔اسی طرح حافظ مظفر احمد صاحب، مبشر احمد کاہلوں صاحب، سلطان محمود صاحب انور، مرزا غلام احمد صاحب، عبد الوہاب آدم، مولوی محمد عمر صاحب مربی مدراس، خدا کے فضل سے ان کو اور چوہدری انور حسین صاحب، منیر الدین شمس، جلال شمس اور ملک محمود مجید کو بھی موقع ملا، بنگلہ دیش جانے کا۔بشیر الدین صاحب، مشتاق احمد شائق، چوہدری شبیر احمد صاحب، سردارنذیر احمد آرکیٹیکٹ ، عبدالرشید آرکیٹیکٹ ان سب کو اللہ تعالٰی کے فضل سے مرکز کی نمائندگی میں مختلف ممالک کے دورے کر کے مختلف خدمات کی توفیق عطا ہوئی۔اب میں رپورٹ کے سب سے زیادہ اہم اور قابل قدر حصے کی طرف آتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس سال جماعت احمدیہ کو قرآن کریم کی خدمت کی جو توفیق بخشی ہے، یہ ایک غیر معمولی اور تاریخی خدمت ہے۔جس کی کوئی مثال دنیا میں آپ کو کہیں نظر نہیں آئے گی۔جب میں یہ کہہ رہا ہوں ، کوئی یہ نہ سمجھے کہ مبالغہ ہے۔میں ابھی وہ کوائف آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، جو تر جمہ قرآن کریم کے سلسلہ میں خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو خدمت کی توفیق بخشی ہے۔آپ جانتے ہیں پاکستان سے میرے یہاں آنے تک یعنی علماء کی شدید مخالفت کے دور سے پہلے گذشتہ 90 سال کی تاریخ میں جماعت احمدیہ کو دس زبانوں میں ترجمے شائع کرنے کی توفیق ملی تھی۔یہ اردو کے علاوہ ہیں۔انگریزی ، یوگنڈا، گورکھی ، ڈینش، سواحیلی، جرمن، ڈچ، یوروبا، انڈونیشین، اسپرانٹو۔اس کے بعد سے اب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتالین اور فرنچ اور محبین اور ہندی تراجم قرآن طبع ہو چکے ہیں۔دو پچھلے سال طبع ہوئے تھے ، دو اس سال طبع 678