تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 367 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 367

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد؟ خلاصہ خطاب فرمودہ 26 جولائی 1986 ء تمام انسانی تہذیب میں صرف ایک مرد نے عورت کی آزادی کی تحریک چلائی ہے خطاب فرمودہ 26 جولائی 1986ء بر موقع جلسہ سالانہ برطانیہ حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ انحل کی آیت 98 کی تلاوت فرمائی اور اس کے بعد مختلف تہذیبوں میں عورت کی حیثیت اور مقام بیان کرتے ہوئے ، دین حق میں عورت کے مقام پر تفصیلی روشنی ڈالی اور فرمایا کہ دین حق پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس نے عورت کو آزادی نہیں دی اور دین حق میں عورت کے حقوق قائم نہیں کئے گئے“۔اس اعتراض کا رد کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔یہ تہذیبیں جو عورت کی آزادی کی علمبردار ہیں اور دین حق پر طعنہ زنی کر رہی ہیں، انہوں نے عورت پر اس قدر مظالم کئے ہیں، جو بیان سے باہر ہیں۔عرب کی تہذیب میں عورت کو حیوانات سے بھی بدتر سمجھا جاتا تھا اور اسے زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔اسے ہوا و ہوس کے پورا کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔اور اس کو کسی قسم کے حقوق نہیں دیئے جاتے تھے۔اسی طرح مغرب کی تہذیب میں بھی عورت کو کسی قسم کے حقوق حاصل نہیں تھے۔عورت کو بیوہ ہو جانے کے بعد اولا د پر کوئی حق نہیں دیا جاتا تھا۔عورت کو بے حیائی کے نتیجہ میں سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔لیکن اس کے بالمقابل مرد بغیر شادی کے دوسری عورتیں گھر میں رکھ سکتا تھا اور اسے کوئی سزا نہیں دی جاتی تھی۔لیکن دین حق نے اس کے بالمقابل عورت کے حقوق کی مکمل حفاظت کی ہے۔اور تمام انسانی تہذیب میں صرف ایک مرد ہے، یعنی سید نا حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس نے عورت کی آزادی کی تحریک چلائی ہے۔باقی تمام تحریکات خود عورتوں کی طرف سے چلائی گئی ہیں۔حضور نے مزید فرمایا:۔تمام ادیان میں دین حق کے سوا ایک بھی ایسا مذہب نہیں ہے، جس نے عورت کو ماضی کے مظالم سے نجات دلائی ہو۔یہودیت، عیسائیت ، بدھ ازم، کنفیوشس ازم کوئی بھی ایسا مذ ہب نہیں ، جس نے عورت کو مرد کے ساتھ برابری کا حق دیا ہو۔صرف دین حق ہی ایسا دین ہے، جس نے جبلی اور فطرتی فرق کے علاوہ ہر پہلو سے مرد اور عورت کو برابری کا حق دیا ہے۔367