تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 146
پیغام بر موقع تربیتی کلاس جماعت احمد یہ مقبوضہ کشمیر تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم کوششوں میں جامعیت نہیں آتی بلکہ ایک پر گندگی اور انتشار کی کیفیت غالب رہتی ہے۔اور ڈسپلن کے بغیر نظم وضبط برقرار نہیں رہ سکتا۔اور یہ دونوں باتیں جہاں افراد کے لئے بڑی بنیادی ہیں، وہاں قومی زندگی میں ان کی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔اس لئے آپ جہاں خود نظم وضبط کی پابندی کریں، وہاں جماعت کے دیگر افراد میں بھی نظم وضبط کی پابندی کے اوصاف اجاگر کریں۔اور اس کے لئے ایک احمدی کو پہلا اور آخری سبق یہی ہے کہ وہ ہر سطح پر اطاعت کو اپنا شعار بنائے۔ہمارے محبوب آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اطاعت کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا:۔"من أطاع أميرى فقد أطاعني ومن أطاعني فقد أطاع الله، ومن عصى أميرى فقد عصاني ومن عصاني فقد عصى الله یعنی جو شخص میرے مقرر کردہ امیر یا افسر کی اطاعت کرتا ہے، وہ دراصل میری اطاعت کر رہا ہے۔اور جو میری اطاعت کرتا ہے، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے۔اور جو میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کرتا ہے، وہ دراصل میرا نا فرمان ہے۔اور جو میری نافرمانی کرے، وہ دراصل میرے بھیجنے والے خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے۔پس جماعت کی روح ہی نظم وضبط اور اطاعت کرنا ہے۔اس لئے ہمارے سب پروگراموں میں یہ روح نمایاں اور نکھر کر نظر آنی چاہیے۔ایسی روح رکھنے والی جماعت کے سر پر ہی خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔جیسے حدیث نبوی ہے کہ يد الله على الجماعة۔سوئم یہ کہ تربیتی امور کے علاوہ تبلیغ کے فریضہ کی اہمیت اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔جماعتی تربیت تو دراصل مجاہدین تیار کرنے کے مترادف ہے۔اور تبلیغ کرنا ان مخلصین مجاہدین کا آگے فریضہ ہے۔جس فوج سے لڑائی کا کام نہ لیا جائے، اس کی تیاری کی ضرورت ہی کیا ہے؟ پس احمدیت کے زیر تربیت آنے والے ہر فرد کی اصل ذمہ داری تبلیغ کرتا ہے۔اس کے بغیر جماعت کی ترقی اور دیگر تمام ادیان پر اس کے غلبہ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی ہمارے سامنے ہے کہ آپ کس طرح تبلیغ کے لئے مضطرب رہتے تھے۔اور ہر گھڑی اور ہر لمحہ اپنی زندگی کا آپ نے تبلیغ کے جہاد میں صرف کیا۔اور جو روحانی ے۔اور ہر اور ہروہ اپنی کا آپنے اور 146