تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 82 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 82

اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 08 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم تو یہ کم از کم ضروری معیار ہے۔چنانچہ اگر کوئی کم از کم معیار سے نیچے گرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے آئے گا، نہ کہ لوگوں کے غضب کے۔لوگ اسے صرف پیار سے سمجھا سکتے ہیں۔صرف نصیحت ہی کی جاسکتی ہے۔تو جولوگ حدود سے تجاوز نہ کرنے والے ہوں ، ان پر کسی کو خفتی کرنے کا حق نہیں۔چنانچہ اگر بعض مربیان اور مبلغین عمدہ طور سے گزارا کر رہے ہیں تو کسی کو بھی علم نہیں ہو سکتا کہ ان کے دیگر ذرائع آمد کیا ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بعض اور ذرائع آمد مہیا فرمائے ہوں، جو وہ ظاہر نہ کرنا چاہتے ہوں۔چنانچہ جب تک آپ ٹھوس شواہد نہ پیش کریں، بے ایمانی کے ٹھوس ثبوت مہیا نہ کریں تو آپ کو کوئی حق نہیں کہ نہیں دیکھو، فلاں فلاں شخص اچھی طرز سے گزارا کر رہا ہے ، جبکہ اس کا اسے کوئی حق نہیں۔کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نعمتیں مومنین کے لئے تیار کی گئی ہیں۔اس دنیا میں دوسرے بھی ان میں شریک ہیں مگر آخرت میں وہ خاص طور پر صرف مومنین کے لئے ہی میسر ہوں گی۔ایک اور بات یہ ہے کہ آپ کو امراء اور جماعت کے عہدیداران کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔امراء اور عہدیداران خلافت کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں، جو بالآخر ساری جماعت کی تنظیم کی ذمہ دار ہے۔چنانچہ اس نظام کے کارکنان کی حیثیت سے انہیں خلافت کے نظام سے بعض حقوق عطا کئے جاتے ہیں۔وہ اپنے مقام کے لحاظ سے مختلف ہیں۔بعض اوقات کسی خاص عہد یدار کے حقوق نہ جانے یا نہ سمجھنے کی وجہ سے مسائل ابھرتے ہیں۔لوگوں کو نہ تو اپنے حقوق کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی ان عہد یداروں کے حقوق کا، جنہیں بعض کاموں پر مقرر کیا گیا ہو۔چنانچہ یہ بہت اہم بات ہے کہ جماعت انگلستان ان سب دوستوں کو بتائے کہ عہدیداران کی کیا حدود ہیں؟ ان کے حقوق اور فرائض کیا ہیں؟ اور ان کی کیا حدود ہیں، جن پر وہ بطور امیر ، صدر یا کسی اور حیثیت میں مقرر کئے گئے ہیں؟ اگر آپ اپنے حقوق اور اپنے فرائض سے واضح طور پر آگاہ ہوں تو کسی کو غلط نہی اور نا اتفاقی کے بیج بونے کی جرات نہیں ہوسکتی۔ان چیزوں کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ جہالت ہے۔جہالت اور تاریکی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔علم روشنی ہے۔چنانچہ سب سے پہلے روشنی پھیلانی چاہئے تا کہ ہر شخص راستہ دیکھ سکے۔اس صورت میں ان باتوں کے پھیلنے کا امکان بہت کم ہے۔کیونکہ بصارت درست ہو تو پھر انسان دوسرے لوگوں سے ٹکراتا نہیں پھرتا ، ماسوا جنگلی انسانوں کے۔ایسا ہوتا تو ہے مگر بہت کم۔نارمل ذہن رکھنے والے افراد ایک ہی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے دوسروں سے ٹکراتے نہیں پھرتے۔چنانچہ ساری جماعت کو احمدیت کی 82