تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 907
تحریک جدید - ایک الہی تحریک وو اقتباس از خطبه جمعه فرموده 10 اگست 1984 ء احمدیت ،ساری دنیا سے مختلف ایک قوم بن کر ابھری ہے خطبه جمعه فرموده 10 اگست 1984ء چنانچہ یہ جو مختلف وقتوں میں جماعت کی طرف سے قربانی کی اطلاعیں آرہی ہیں اور مختلف ممالک سے یہ اس کثرت کے ساتھ ہیں کہ ناممکن ہے، انہیں ایک دو خطبات میں بیان کیا جاسکے۔بلکہ ہرا ہا صفحات کی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔میں نے بعض قربانیوں کا ذکر گزشتہ ایک خطبہ میں کیا تھا لیکن اس کے بعد بعض ایسے غرباء کی بعض بچوں کی بعض کمزور لوگوں کی ایسی عظیم الشان قربانیوں کی اطلاعیں ملی ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ ان کو بھی اس ذکر میں شامل کرنا ضروری ہے۔کیونکہ جماعت کے امیر بھی جس طرح قربانی کر رہے ہیں ، اسی طرح جماعت کے غریب بھی قربانیاں کر رہے ہیں۔اور جماعت کے غرباء کی بعض صورتوں میں قربانیاں اتنی عظیم الشان ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ یہ قربانیاں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں خدا کی نظر میں یا امراء کی قربانیاں۔آج تو یہ کیفیت نظر آتی ہے کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز امیر اور غریب اپنی قربانیوں میں بالکل ایک صف میں کھڑے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔مگر پھر بھی غریب چونکہ اس سطح پر اپنی اقتصادی لحاظ سے اس ادنی سطح پر واقع ہوتا ہے کہ جب وہ قربانی دیتا ہے تو اسے بھوک کی شدت بھی برداشت کرنا پڑتی ہے، اسے دوسری تنگیاں بھی اٹھانی پڑتی ہیں، اس لئے اس پہلو سے وہ یقیناً امراء پر فضیلت لے جاتا ہے۔اور بعض لوگ کچھ بھی پیش نہیں کر سکتے ، سوائے رونے کے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کے وہ آنسو ہیں، جو خدا کی نظر میں موتیوں سے بڑھ کر قیمتی ہو جاتے ہوں گے۔چنانچہ ایک صاحب اس سلسلہ میں مجھے لکھتے ہیں کہ آپ نے جو نئے مشن کی تحریک فرمائی، اس کی کیسٹ گھر میں سن رہے تھے، میری بچیاں بھی ساتھ بیٹھی تھیں۔جب آپ نے یہ فرمایا کہ فلاں بچی نے زیور دیا اور فلاں بچی نے یہ روپیہ دیا تو یہ آواز سن کر اس عاجز کی بچیاں آنکھوں سے آنسو بہا کر پکار اٹھیں کہ کاش ہمارے پاس بھی زیور یا روپیہ ہوتا تو حضور کے قدموں میں رکھ دیتیں۔اس وقت تو قرضہ کا بوجھ اس قدر ہے کہ یہ خط لکھتے وقت اپنی بچیوں کا وقت یاد آ گیا اور میری آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہیں۔907