تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 908 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 908

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 10 اگست 1984ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک تو یہ وہ جماعت ہے، جس کا رد عمل ان مصیبتوں اور دکھوں کے وقت اللہ کی راہ میں اور بھی زیادہ قربانیاں دینے کی تمنا کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔بچوں کے متعلق ایک دوست لکھتے ہیں کہ میرے بچوں نے جو پیسے ان کے پاس تھے ، کہا کہ امی ہم نے یہ رقم دینی ہے۔میری ایک بچی جس کی کراچی سے روانہ ہوتے وقت آخری دن آپ کی ملاقات ہوئی تھی اور آپ نے از راہ شفقت اس کو قلم دیا تھا، اس نے اپنے جیب خرچ میں سے اپنے گلہ میں ، وہ مٹی کا برتن، جس میں پیسے جمع کرتے ہیں بچے، جو کچھ بھی جمع کیا ہوا تھا، وہ سارا اس نے پیش کر دیا۔ایک بچہ، جو بڑی عمر کا ہے نسبتا، اس نے موٹر سائیکل کے شوق میں پیسے جمع کئے ہوئے تھے اور اب تک اس کے پاس 2,100 روپے جمع ہو چکے تھے۔اس نے مجھے لا کر دیئے کہ ابا میں بالکل موٹر سائیکل لینا نہیں چاہتا، مجھے کوئی شوق نہیں رہا، اس لئے یہ ساری رقم یورپ کے ان مراکز کے چندے میں پیش کر دیں۔اور میری طرف سے درخواست کریں کہ مولا ہماری یہ حقیر قربانی قبول فرمائے۔ایک بچی لکھتی ہے، ہمارے ایک مبلغ کی بچی ہے کہ میں نے تین سال کی عرصہ میں جیب خرچ اور عیدی کی ساری جمع شدہ رقم کا گلہ مشنری انچارج (Missionary Incharge) یعنی اپنے ابا کے سپر د کر دیا ہے۔جو پانچ صد شیلنگ بنتے ہیں۔اس رقم کو قبول فرمائیں۔ایک مربی سلسلہ اطلاع کرتے ہیں اور جتنے بھی خدا کے فضل سے مربیان سلسلہ ہیں، ان سب کا یہی حال ہے۔کوئی ایک کا ذکر کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی دوسرا قربانی میں پیچھے ہے۔صرف نمونہ جماعت کے سامنے لانے کے لئے بعضوں کو میں نے چنا ہے۔کہتے ہیں : نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد سیدھا مر بی ہاؤس گیا فوراًبیوی سے ملا اور اس کی طرف دیکھتا رہ گیا کیونکہ میں اس امید کے ساتھ گیا تھا کہ میرے جانے سے قبل میری بیوی اپناز یورا تار چکی ہوگی۔جاتے ہی مجھے کہے گی کہ یہ لو، اسے حضور کی خدمت میں پیش کر دو۔میں نے جب اس کے بدن پر زیور دیکھا تو میں نے اس سے کہا کہ میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں؟ میں تو اس امید سے آیا تھا کہ تم سارا زیور اتار چکی ہوگی۔اس پر اس نے کلائی میری طرف بڑھائی اور کہنے لگی کہ خودا تارو۔اور کہنے لگی: خدا کی قسم! میں تو یہ زیور اس وقت سے وقف کر چکی ہوں، جب حضور نے تحریک فرمائی تھی۔اور انتظار کر رہی تھی کہ کب ہمیں بھی اجازت ہو، اس تحریک میں شامل ہونے کی ؟ لو، اسے اتارو، اب میں اسے نہیں پہن سکتی۔کہنے لگی: کچھ زیور میرا فلاں گھر پڑا ہے ، وہاں سے منگوالو۔ایک ہلکا سا لاکٹ اور بالیاں کانوں میں دیکھیں تو میں نے کہا: یہ کیوں نہیں اتار رہی؟ تو اس نے جواب دیا کہ 908