تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 897
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔اقتباس از خطبه جمعه فرموده 29 جون 1984ء مقام پر نہیں کھڑی ، جس پر جماعت آج سے دو مہینے پہلے کھڑی تھی۔اگر آپ پیچھے مڑ کر دیکھیں تو جس طرح پیچھے بہت بلند پہاڑوں پر چڑھنے والے کوہ پیما جایا کرتے ہیں تو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ نیچے نظر ڈالتے ہیں تو بہت پیچھے بہت نیچے اپنی پرانی جگہیں دکھائی دیتی ہیں تو مجھے تو یوں ہی لگ رہا ہے کہ میں ایک عظیم پہاڑ کے اوپر چڑھ رہا ہوں، جماعت کے ساتھ اور ہر آن جب میں نظر ڈالتا ہوں تو پہلا مقام بہت پیچھے اور بہت نیچے دکھائی دیتا ہے۔اس لئے خدا سے بھی شکوہ کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوسکتا۔جو مصیبتوں کے وقت بھی ایسے فضل اور ایسے انعام لے کر آتا ہے۔پس اپنے صبر کا معیار بھی بڑھائیں، اپنے شکر کا معیار بھی بڑھا ئیں۔اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دن بدن کتنی ترقیات عطا فرمائے گا۔اور ابھی اس کے نزدیک یہ ابتلاء کا دور ہے، انعام کے دروازے ابھی کھلنے والے ہیں۔یہ ابتلاء ہیں، جو انعام بن کر آرہے ہیں ، جماعت کے لئے۔اور اس کے بدلے میں پھر انعام آنے والے ہیں۔اللہ کے فضلوں کی کوئی انتہاء نہیں ہوتی۔اس کا کوئی کنارہ نہیں ہے، اس کے فضلوں کے سمندر کا کہ جس تک آپ پہنچ کر کہیں کہ اب ہم یہاں پہنچ گئے۔اس لئے آپ کی زندگی اس کے فضلوں کے اندر ختم ہوگی۔اس کے فضل آپ کی زندگیوں میں ختم نہیں ہو سکتے۔ایسے خدا سے ہم نے تعلق جوڑا ہے، ایسے خدا سے سودا کیا ہے۔آخر پر میں اب یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ وہ سب دوست ، مردوخواتین، جو مجھے باہر سے خطوط لکھ رہے ہیں کہ نہیں بھی ضرور موقع دیں۔کیونکہ یہ آج کل خاص ایام ہیں اور غیر معمولی لذت پاتی ہے، جماعت قربانی میں۔اس لئے میں اپنے پہلے فیصلے کو بدلتا ہوں اور یورپ اور امریکہ کے مراکز کے لئے سیاری جماعت کو اجازت دیتا ہوں کہ جس جس جگہ سے بھی کوئی مخلص کچھ پیش کرنا چاہے ، وہ پیش کر دے۔لیکن یہ خیال رکھیں کہ حد اعتدال میں رہیں۔بعض اوقات ایسے آتے ہیں قوموں پر جبکہ ابھارنا پڑتا ہے کہ ابھی تمہارا معیار تھوڑا ہے اور بلند کرو۔آج جس دور سے ہم گزر رہے ہیں، مجھے اب یہ فکر ہے کہ ذرا کم کرو۔اتنا زیادہ آگے نہ بڑھو کیونکہ مجھے ذہن میں ہمیشہ وہ حقوق آتے ہیں، جو خدا تعالیٰ نے فرض فرما دیئے ہیں۔اور یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ وہ بنیادی حقوق تلف کر کے کہیں قربانی کی راہوں میں آگے نہ بڑھیں۔اس لئے توازن کو قائم رکھتے ہوئے ، اپنے دوسرے حقوق ادا کرتے ہوئے عفو کا جو طریق خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ جو بچتا ہے، پھر وہ سب کچھ پیش کر دو۔تو ساری دنیا کی جماعتیں اب آزاد ہیں کہ حسب توفیق عفو کے مطابق قرآنی تعلیم کی حدود میں رہتے ہوئے ، وہ بھی ان لذتوں سے حصہ پائیں ، جن لذتوں سے آج اہل یورپ بالخصوص اور اہل امریکہ کا ایک حصہ، ایک طبقہ بڑے نمایاں طور پر حصہ پارہا ہے۔مطبوعہ خطبات طاہر جلد 3 ، صفحہ 335 تا 348 897