تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 887
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم اقتباس از خطبه جمعه فرموده کیم جون 1984ء اس جماعت کو دنیا کی کون سی طاقت مار سکتی ہے؟ بڑا ہی جاہل ہے، وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ میں اٹھا ہوں، اس جماعت کو تباہ کرنے کے لئے۔بڑے بڑے پہلے آتے ہیں، بڑے بڑے ہم نے دیکھے ہیں، آئے اور نیست و نابوت ہو گئے ، ان کے نشان مٹ گئے اس دنیا سے۔لیکن ان غریبوں کی قربانیوں کو خدا تعالیٰ نے قبول فرمایا اور پہلے سے بڑھ کر عظمت اور شان عطا کی۔جنہوں نے اپنے گھر خدا کے لئے خالی کئے ، ان پر اتنی برکتیں نازل فرمائی کہ آج ان کی اولادیں بھی ان کی نیکیوں کا پھل کھا رہی ہیں اور وہ ختم نہیں ہو رہا۔تو اس نئی قربانی کے دور میں جماعت جو داخل ہوئی ہے، نئی خوش خبریوں کے دور میں داخل ہوئی ہے، نئی عظیم الشان ترقیات کے دور میں داخل ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی تیزی کے ساتھ اب ہم ان مقاصد کو بھی حاصل کر رہے ہیں، جن کی خاطر ان چندوں کی تحریکات کی گئی تھیں۔چنانچہ آج ہی امریکہ سے یہ خوشخبریاں موصول ہوئی ہیں، جو جماعت کو معلوم ہونی چاہئیں۔کیونکہ جہاں اللہ کی راہ میں دکھ کا مزہ ہے، وہاں خدا کی طرف سے جو فضل نازل ہوتے ہیں، ان کا بھی تو ایک مزہ ہے۔اور وہ عجیب مزہ ہے۔اس لئے یہ دونوں باتیں اکٹھی چلنی چاہئیں۔اور مومن کی عجیب شان ہے، اس کے دکھ میں بھی لذت ہے، اس کی خوشی میں بھی لذت ہے۔اس کا دکھ بھی آنسو بن کر گرتا ہے، خدا کے حضور۔اس کی خوشیاں بھی خدا کے حضور آنسو بن کر گرتی ہیں۔یہ دنیا ہی الگ ہے۔اور دنیا والے اس دنیا کو سمجھ نہیں سکتے۔بہر حال جو واشنگٹن سے شیخ مبارک احمد صاحب نے خوشخبریاں بھجوائی ہیں، وہ میں آپ کو بتا تا ہوں کہ نیو یارک میں ایک بہت ہی عظیم الشان بہت ہی مفید اور سلسلہ کی ضروریات کو بہت حد تک پورا کرنے والی عمارت کا چار لاکھ ، ستاون ہزار ڈالرز میں سودا ہو چکا ہے۔اور ماہرین نے جو دیکھا ہے، وہ انہوں نے کہا ہے کہ یہ اس کی قیمت چھ لاکھ ڈالرز سے کم نہیں تھی۔یہ جماعت کی خوش قسمتی ہے کہ اتنی اچھی عمارت نیو یارک میں اتنی اچھی جگہ پر ان کو میسر آ جائے۔اور ساتھ ہی ایک احمدی دوست نے یا بعض احمدی دوستوں نے مل کر ایک ملحقہ پلاٹ، جس پر رہائشی مکان بھی موجود ہے ، انہوں نے جماعت کو تحفہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔تا کہ مبلغ جو وہاں ٹھہرے، اس کی ضروریات الگ بھی پوری ہو سکیں اور ایک مہمان خانہ بھی مل جائے۔لاس اینجلس میں چارا یکڑ کا پلاٹ خریدا جا چکا ہے۔اور شکاگو میں پانچ ایکڑ کا پلاٹ خریدا جا چکا ہے۔ڈیٹرائٹ میں جہاں مظفر شہید ہوئے تھے ، سات ایکڑ کا ایک پلاٹ کا سودا ہو چکا ہے۔اور اس کے ساتھ مکان بھی شامل ہے۔اور واشنگٹن میں جو ہمارا مرکز ہے، وہاں خدا کے فضل سے چوالیس ایکڑ کا رقبہ خرید لیا گیا ہے۔اور اب صرف Formalities باقی ہیں۔یہ تو پانچ وہ مراکز ہیں، جن کے متعلق میں نے 887