تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 798
خطاب بر موقع استقبالیہ مجلس انصار اللہ مرکزیہ تحریک جدید - ایک الہبی تحریک پس یہ رحجان بڑا خطرناک ہے۔ترقی کرنے والی قو میں جو پھیلنے اور غالب آنے والی ہیں، ان کو میں تو زبان کا جنون ہونا چاہیے۔جہاں وہ جائیں ، زبان پر توجہ دیں اور فوراً سیکھنا شروع کر دیں۔اس کے لئے بچے والی ذہنیت سب سے اچھی اور مفید ہوتی ہے۔بچے کی ذہنیت خدا تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ اس میں کوئی تکلف نہیں، اسے شرم کوئی نہیں ہے۔جیسا وہ سنتا ہے، ویسا ہی بے تکلفی سے بول دیتا ہے۔شروع میں تو تلی زبان بولتا ہے لیکن وہ سننے والوں کو بڑی پیاری لگتی ہے۔جو لوگ نئی زبانیں سیکھتے ہیں، اس قوم کے لوگ جن کی وہ زبان ہے ، وہ اس پر بنتے نہیں بلکہ ان پر انہیں بڑا پیار آتا ہے۔میں نے بعض دفعہ اپنے لوگوں کو کہا کہ جب ہمارے عثمان چینی صاحب نئے نئے آئے تھے تو وہ دو چار فقرے ٹیر ھے میٹھے بولتے تھے تو ان پر بڑا پیار آتا تھا۔مگر پنجابی سمجھتا ہے کہ میری بے عزتی ہوگی اور یہ لوگ مجھ پر نہیں گے۔وہ اپنے آپ کو غلط انگریزی یا دوسری زبان غلط بولنے کے لئے تیار ہی نہیں پاتا۔یہ ایک نفسیاتی COMPLEX ہے۔حالانکہ نئی زبان چاہے جس قوم کی بھی ہو، وہ دوسرے کے لئے بہر حال غیر زبان ہے۔قوم والے تو آپس میں حقارت نہیں کرتے ، وہ خود ہی ایک دوسرے کی نظروں سے شرمندگی سے بچنے کے لئے علم سے محروم رہ جاتے ہیں۔چنانچہ میں نے پچھلی دفعہ انگلستان میں لوگوں سے کہا کہ میں انگریزی بولتا ہوں، اس پر مجھے کوئی عبور نہیں ہے، کوئی ملکہ نہیں ہے۔میں ہمیشہ تھرڈ کلاس سٹوڈنٹ رہا ہوں لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے ایک فرض ڈالا ہے، اس لئے مجھے کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔جہاں تک اظہار بیان کا سوال ہے، مجھے اتنا پتہ ہے کہ میں بالا خر کر لیتا ہوں تو یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی ہے۔آپ بھی اس طرح کریں۔آپ کیوں شرماتے ہیں؟ چنانچہ بعض مبلغین جو پہلے اردو بولا کرتے تھے، انہیں میں نے مجبور کیا اور کہا کہ اب آپ کو حکم ہے کہ آپ نے ان مجالس میں ، جن میں کوئی انگریز آیا ہو، اردو نہیں بولنی۔نتیجہ وہ جو آتے رہے ہیں ، وہ سرک بھی جاتے رہے ہیں۔وہ سمجھتے تھے کہ یہ ان لوگوں کی جگہ ہے۔اب بھی بعض ملکوں میں اس واضح ہدایت کے باوجود بھی پچھلے ہفتہ مجھے بعض شکائتیں ملی ہیں کہ آپ کے مبلغین اپنی زبان بولتے ہیں۔جب مجلس لگتی ہے تو پنجابی یا پاکستانی آپس میں باتیں شروع کر دیتے ہیں۔اور ہم لوگوں کو ایک طرف باہر رکھا ہوتا ہے۔جس طرح ہم اپنے ملک میں بھی غیر ملکی ہیں۔بات یہ عجیب ہے کہ ایک تو آپ ان کے دل جیتنے جائیں اور پھر سلوک یہ کریں کہ اپنے ملک میں وہ غیر ملکی محسوس ہوں۔پھر وہ پیچھے ہٹنے لگ جاتے ہیں۔پچھلے دنوں میں ایک سے زائد ایسے خط آئے ہیں تو اس وقت تحریک جدید کے صدر اور وکیل اعلیٰ بھی موجود ہیں، وہ اس پہلو سے بھی یہ بات نوٹ کریں۔798