تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 752 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 752

پیغام بر شہادت مکرم ڈاکٹر مظفر احمد صاحب تحریک جدید - ایک الہی تحریک دکھائی اور اپنے بازو ننگے کئے اور کندھوں کے جوڑ تک اپنے داغ داغ بدن کا ماجرا اس کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔اور کہا کہ دیکھو اور یہ دیکھو اور یہ دیکھو اور یہ دیکھو۔اور اے دیکھنے والو! مجھے بتاؤ کہ کیا ایک انچ بھی ایسی جگہ تمہیں دکھائی دیتی ہے، جہاں اللہ کی راہ میں خالد نے زخم نہ کھائے ہوں؟ لیکن وائے حسرت اور وائے حسرت کہ خالد شہید نہ ہو سکا۔اور یہ غم جو آج مجھے کھائے جارہا ہے، ان زخموں کے دکھ سے کہیں زیادہ جاں سوز ہے، جو شوق شہادت میں کھائے تھے۔پس اے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے دروازے سے راہ سلوک میں داخل ہونے والو! تمہاری زندگی کے سفر میں لازماً صالحیت سے بالاتر مقام بھی آئیں گے۔خوب یاد کھو کہ یہ خوف و ہراس اور نقصان و زیاں کا راستہ نہیں بلکہ لامتناہی انعامات کا ایک پہاڑی راستہ ہے، جس کے انعام کی ہر منزل پہلے سے بلند تر ہے۔پس خوشی اور مسرت اور عزم اور یقین کے ساتھ آگے بڑھو۔تبلیغ اسلام کی جو جوت میرے مولیٰ نے میرے دل میں جگائی ہے اور آج ہزاروں احمدی سینوں میں یہ لو جل رہی ہے، اس کو سمجھنے نہیں دینا۔اس مقدس امانت کی حفاظت کرو۔میں خدائے ذوالجلال والاکرام کے نام کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر تم اس شمع نور کے امین بنے رہو گے تو خدا اسے کبھی سمجھنے نہیں دے گا۔یہ لو بلند تر ہوگی اور پھیلے گی اور سینہ بہ سینہ روشن ہوتی چلی جائے گی۔اور تمام روئے زمین کو گھیرے گی اور تمام تاریکیوں کو اجالوں میں بدل دے گی۔اے احمدیت کے بدخواہو! تمہارے نام بھی میرا ایک پیغام ہے۔اسے نگاہ بد سے اسے دیکھنے والو سنو کہ تم ہر گز اسے بجھانے میں کامیاب نہیں ہو سکو گے۔یہ ارفع چراغ وہ نہیں، جو تمہاری سفلی پھونکوں سے بجھایا جاسکے۔جبر کی کوئی طاقت اس نور کے شعلے کو دبا نہیں سکتی۔چشم بصیرت سے دیکھو کہ مظفر آج بھی زندہ ہے بلکہ پہلے سے کہیں بڑھ کر زندگی پا گیا۔پس اے مظفر! تجھ پر سلام کہ تیرے عقب میں لاکھوں مظفر بڑھ کر تیری جگہ لینے کے لئے بے قرار ہیں۔اور اے مظفر کے شعلۂ حیات کو بجھانے والو! تم نے اسے ابدی زندگی کا جام پلا دیا۔زندگی اس کے حصہ میں آئی اور موت تمہارے مقدر میں لکھ دی گئی۔مذہبی آزادی کا قرآنی تصور تو ایک بہت پاک اور اعلیٰ اور ارفع اور وسیع تصور ہے۔اسے جبر و اکراہ کے مکروہ اور مجزوم تصور میں بدلنے والو! اور اے مذہب کے پاک سر چشمہ سے پھوٹنے والی لازوال محبت کو نفرت اور عناد میں تبدیل کرنے والو!! اے ہر نور کو نار میں اور رحمت کو زحمت میں بدلنے کے خواہاں بدقسمت لوگو، جو انسان کہلاتے ہو! یا درکھو کہ تمہاری ہر سفلی 752